کنٹریکٹ پالیسی نافذ نہ ہوئی تو 5 جولائی کو بھوپال میں بجلی ملازمین کا بڑا احتجاج، وزیر توانائی کو لکھا خط

تاثیر۲۶      جون ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

بھوپال، 26 جون:بجلی کے کارکنوں نے مدھیہ پردیش میں 30 جون تک کنٹریکٹ اور ہوم ڈسٹرکٹ ٹرانسفر پالیسی کو لاگو نہ کرنے کی صورت میں 5 جولائی کو راجدھانی بھوپال میں مظاہرے کا انتباہ دیا ہے۔ اس سلسلے میں یونائیٹڈ فورم فار پاور ایمپلائز اینڈ انجینئرز نے وزیر توانائی پردیومن سنگھ تومر کو ایک خط بھی لکھا ہے۔ ساتھ ہی بھوپال سمیت دیگر اضلاع میں تحریک کے حوالے سے میٹنگیں ہو رہی ہیں۔
فورم کے صدر وی کے ایس پریہار نے وزیر توانائی سے مطالبہ کیا ہے کہ دونوں پالیسیوں کو 30 جون تک نافذ کیا جائے۔ کنٹریکٹ پالیسی کا اعلان 11 ماہ قبل کیا گیا تھا جس پر تاحال عمل درآمد نہیں ہوا۔ ایسے میں پوری ریاست کے کنٹریکٹ الیکٹریشن ناراض ہیں۔ اگر 30 جون تک پالیسی پر عمل نہیں کیا گیا تو ہم 5 جولائی کو بھوپال کے گووند پورہ میں بجلی کے ہیڈ کوارٹر پر احتجاج کریں گے۔
وہیں، فورم کے میڈیا انچارج لوکندر سریواستو کا کہنا ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان نے اسمبلی انتخابات-2023 سے قبل کئی محکموں کی مہاپنچایت بلا کر ملازمین کے مطالبات کو پورا کیا تھا۔ 4 جولائی 2023 کو لال پریڈ گراؤنڈ میں کنٹریکٹ ملازمین کی مہاپنچایت بھی بلائی گئی۔ جس میں انہوں نے اسٹیج سے ہی محکمہ توانائی کی محنت کی تعریف کی۔ کنٹریکٹ ملازمین کی حالت زار کو سمجھتے ہوئے ان کے لیے اعلان کیا گیا۔ 22 جولائی کو کابینہ نے کنٹریکٹ پالیسی 2023 کی منظوری دی۔ نئی کنٹریکٹ پالیسی کو بیشتر محکموں میں فعال طور پر نافذ کیا گیا۔ دوسری جانب پاور کمپنی میں کام کرنے والے 6 ہزار کنٹریکٹ آفیسر ملازمین 11 ماہ سے پالیسی پر عملدرآمد کے منتظر ہیں۔ سریواستو نے کہا کہ وزیر توانائی تومر اور پاور مینجمنٹ کے منیجنگ ڈائرکٹر کے ساتھ میٹنگ کے دوران واضح طور پر کہا گیا تھا کہ معاہدہ پالیسی میں ترمیم کے بعد جلد ہی پالیسی جاری کی جائے، لیکن 11 ماہ گزرنے کے بعد بھی ایسا نہیں ہوا۔
چیئرمین پریہار نے کہا کہ معاہدہ کی پالیسی جولائی 2023 میں جاری کی گئی تھی، لیکن اس پر عمل نہیں کیا گیا۔ بجلی کمپنی میں کام کے دوران آٹھ ملازمین جاں بحق ہو گئے۔ آج تک ان کے اہل خانہ کو انوکمپا(ہمدردانہ تقرری) فراہم نہیں کی گئی۔ بجلی کمپنیوں کی غلط پالیسیوں کا خمیازہ کنٹریکٹ ملازمین کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔