یورپی پارلیمانی انتخابات کا آخری مرحلہ، سخت گیر جماعتوں کی کامیابی کا امکان

تاثیر۹       جون ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

برسلز، 09 جون: یورپی پارلیمنٹ کے انتخابات کے چوتھے اور آخری مرحلے میں آج یورپ کے 20 ممالک کے شہری اپنا حق رائے دہی استعمال کرتے ہوئے ووٹ ڈال رہے ہیں۔خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق انتخابات کے نتائج یورپی یونین کی پارلیمنٹ کی پالیسی پر اثرانداز ہو سکتے ہیں جو دنیا کا سب سے بڑا تجارتی بلاک ہے۔یوکرین میں جنگ اور ماحولیاتی پالیسی کے کسانوں اور نقل مکانی پر اثرات سے متعلق کچھ ایسے مسائل ہیں جو پرتگال سے آسٹریا اور پولینڈ تک کے ووٹرز کے ذہنوں پر چھائے ہوئے ہیں۔یورپی پارلیمان کے 720 ارکان کو منتخب کرنے کے لیے چار روز پر مشتمل الیکشن کا آغاز جمعرات کو نیدرلینڈز سے ہوا تھا۔ہر پانچ سال بعد منعقد ہونے والے یورپی پارلیمنٹ کے انتخابات میں یورپی یونین کے 27 رکن ممالک کے شہری ووٹ ڈال دیتے ہیں۔انتخابات کے غیرحتمی نتائج آج شام کو آنا شروع ہو جائیں گے تاہم صورتحال آئندہ روز پیر کو ہی واضح ہوگی۔جمعرات کو نیدرلینڈز میں غیرسرکاری ایگزٹ پول کے نتائج میں مائیگریشن مخالف سخت گیر رہنما گیرٹ وائلڈر کی پارٹی کی خاطرخواہ کامیابی کا امکان ظاہر ہوا ہے۔سال 2019 میں یورپی یونین کے انتخابات کے بعد سے تین ممالک ہنگری، سلوویکیا اور اٹلی میں پاپولسٹ اور دائیں بازوں کی جماعتیں حکومت میں ہیں جبکہ سویڈن اور فن لینڈ میں یہ جماعتیں حکومتی اتحاد کا حصہ ہیں۔اور اب نیدر لینڈز میں بھی ایسا ہی ہونے جا رہا ہے جہاں اگر دائیں بازوں کی جماعت اکثریت کے ساتھ حکومت نہیں بھی بنا پاتی تو بطور اہم اتحادی اپنا کردار ادا کر سکے گی۔گزشتہ پانچ سالوں میں یورپی یونین کو کورونا کی عالمی وبا، معاشی سست روی اور توانائی کے بحران کا سامنا رہا۔ان انتخابات سے یورپ اور اس کے بین الاقوامی شراکت داروں کے لیے غیریقینی کی صورتحال کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔پارلیمنٹ میں سیاسی گروپس اور اتحاد بنانے کے علاوہ حکومتوں کی کوشش ہو گی کہ یورپی یونین میں اعلٰی عہدوں پر اپنے نمائندوں کو فائز کریں۔سب سے اہم عہدہ یورپی کمیشن کے صدر کا ہے جو قوانین سے متعلق تجاویز پیش کرتا ہے اور ان کی پاسداری کو یقینی بناتا ہے۔یورپی یونین کے مالی اخراجات بھی کمیشن کے ہی کنٹرول میں ہوتے ہیں اور تجارت سے متعلق معالات سے بھی یہی ادارہ نمٹتا ہے۔سروے کے نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ پارلیمنٹ میں پرو یورپی جماعتوں کی اکثریت برقرار رہے گی جبکہ دائیں بازو کی سخت گیر جماعتوں جیسے گیرٹ وائلڈر یا فرانس کی مارین لے پین کی جماعتیں بھی خاطر خواہ ووٹس سے کامیاب ہوں گی۔