آئی سی سی نے ٹی۔20 ورلڈ کپ 2024 کی ٹیم آف ٹورنامنٹ کا اعلان کیا، روہت شرما کوملی کمان

تاثیر۳۰      جون ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

نئی دہلی، یکم جولائی: انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے اتوار کی رات دیر گئے آئی سی سی مینز ٹی ۔20 ورلڈ کپ 2024 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کیا، جس کی کمان بھارتی کپتان روہت شرما کو سونپی گئی ہے۔ ٹیم میں چار مختلف ممالک کے کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا ہے۔
چیمپئن بھارت کے چھ کھلاڑیوں کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے جس میں کپتان روہت شرما، پلیئر آف دی ٹورنامنٹ جسپریت بمراہ، اکشر پٹیل، ارشدیپ سنگھ، سوریہ کمار یادو اور ہاردک پانڈیا شامل ہیں۔
سیمی فائنل میں شاندار کارکردگی کے بعد افغانستان کے تین کھلاڑیوں کپتان راشد خان، فضل الحق فاروقی اور رحمان اللہ گرباز کو بھی ٹیم میں جگہ مل گئی ہے۔ اس کے علاوہ ویسٹ انڈیز کے نکولس پورن اور آسٹریلیا کے مارکس اسٹونیس کو بھی ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔ جنوبی افریقی تیز گیندباز اینریک نورٹجے کو 12ویں کھلاڑی بنایا گیا ہے۔
روہت اس ٹورما،مٹ میں دوسرے سب سے زیادہ رن بنانے والے کھلاڑی رہے جنہوں نے آٹھ اننگز میں 257 رن بنائے۔ آسٹریلیا کے خلاف جیت میں ان کی کارکردگی بہترین رہیْ انہوں نے اس میچ میں صرف 41 گیندوں پر 92 رن بنائے جس کے بعد انگلینڈ کے خلاف سیمی فائنل میں انہوں نے 57 رن جوڑے۔
ان کے ساتھ افغانستان کے وکٹ کیپر رحمان اللہ گرباز بھی ٹاپ آرڈر میں شامل ہیں جو ہندوستانی اوپنر سے زیادہ رن بنانے والے واحد کھلاڑی ہیں۔
رحمان اللہ نے 281 رن بنا کر افغانستان کو اپنی تاریخ میں پہلی بار سیمی فائنل میں پہنچنے میں مدد کی، تین میچوں میں نصف سنچریاں اسکور کیں۔ آسٹریلیا کے خلاف ان کے 60 رن افغانستان کو سپر 8 سے آگے لے جانے میں اہم ثابت ہوئے۔
تیسرے نمبر پر ویسٹ انڈیز کے وکٹ کیپر بلے باز نکولس پورن ہیں جنہوں نے 38 کی اوسط سے 228 رن بنائے جس میں افغانستان کے خلاف جیت میں 53 گیندوں پر 98 رن کی اننگز بھی شامل تھی۔
ٹیم میں دوسرے ہندوستانی کھلاڑی سوریہ کمار یادو ہیں جنہوں نے کچھ اہم اننگز کھیلی ہیں، خاص طور پر انگلینڈ کے خلاف سیمی فائنل میں ان کے 47 رن اور سپر 8 میں افغانستان کے خلاف صرف 28 گیندوں پر ان کے 53 رن ان کی بہترین اننگز رہیں ۔
پانچویں نمبر پر موجود ٹیم میں واحد آسٹریلوی کھلاڑی مارکس اسٹوئنس ہیں جنہیں ٹورنامنٹ میں شاندار کارکردگی کے بعد شامل کیا گیا ہے۔ اسٹوئنس نے بلے اور گیند سے تعاون کیا اور 40 سے زیادہ کی اوسط اور 160 سے زیادہ کے اسٹرائیک ریٹ سے 169 رن بنائے۔ انہوں نے پورے ٹورنامنٹ میں 10 وکٹیں بھی حاصل کیں۔
ہندوستان کے اگلے آل راونڈر ہاردک پانڈیا ہیں جنہوں نے 48 کی اوسط سے 144 رن بنائے۔ گیند کے ساتھ 11 وکٹیں بھی حاصل کیں اور فائنل میں جنوبی افریقہ کے خلاف ہندوستان کی جیت کو یقینی بنانے کے لیے اہم آخری اوور پھینکا۔
ان کے ساتھی اکشر پٹیل نے بھی بلے اور گیند سے متاثر کن کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ بائیں ہاتھ کے اسپن گیند باز کو فائنل میں بلے بازی آرڈر میں بھیجا گیا جہاں انہوں نے 47 رنوں کی شاندار اننگز کھیلی جبکہ 23رنوں کے عوض تین وکٹیں لے کر سیمی فائنل میں انگلینڈ کے خلاف فتح کو یقینی بنایا۔
اس کے ساتھ ہی افغانستان کے آل راؤنڈر اور کپتان راشد خان نے کیریبین گراونڈ پر 12.78 کی اوسط اور چھ سے کچھ زیادہ اکانومی ریٹ سے 14 وکٹیں لے کر شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
ان کے بعد جسپریت بمراہ ہیں جنہوں نے پورے ٹورنامنٹ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ یہ ان کا جادو تھا جس نے فائنل کا رخ ہندوستان کی طرف موڑ دیا اور انہوں نے 4.17 کی شاندار اکانومی ریٹ کے ساتھ 8.26 کی اوسط سے 15 وکٹیں لیں۔
گیارہ میں آخری ہندوستانی کھلاڑی ارشدیپ سنگھ ہیں جنہوں نے اپنے دوسرے ورلڈ کپ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ ان کی 17 وکٹیں کسی بھی کھلاڑی کی مشترکہ سب سے زیادہ وکٹیں تھیں، جن میں فائنل میں 20 کے عوض دو وکٹیں شامل ہیں۔
افغانستان کے فضل الحق فاروقی، گیارہ میں آخری کھلاڑی ہیں، جو ارشدیپ کی وکٹوں کا مقابلہ کرنے والے واحد کھلاڑی ہیں۔ 17 رن کے عوض چار وکٹیں لینے کی بدولت انہوں نے گروپ مرحلے میں نیوزی لینڈ کو شکست دینے میں مدد کی ۔
رنرز اپ جنوبی افریقہ سے ٹیم میں 12ویں کھلاڑی کے طور پر تیز گیند باز اینریچ نورٹجے کو شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے 13.40 کی اوسط اور چھ سے کم اکانومی ریٹ سے 15 وکٹیں لیں۔
سلیکشن پینل میں کمنٹیٹر ہرشا بھوگلے، ایان بشپ اور قیس نائیڈو اور آئی سی سی کے جنرل منیجر کرکٹ وسیم خان شامل تھے۔
آئی سی سی مینز ٹی۔20 ورلڈ کپ 2024 کی ٹیم درج ذیل ہے:
روہت شرما (کپتان) – بھارت، رحمن اللہ گرباز (وکٹ کیپر) – افغانستان، نکولس پورن – ویسٹ انڈیز، سوریہ کمار یادیو – بھارت، مارکس اسٹوئنس – آسٹریلیا، ہاردک پانڈیا – بھارت، اکشر پٹیل – بھارت، راشد خان – افغانستان، جسپریت بمراہ – بھارت، ارشدیپ سنگھ – بھارت، فضل الحق فاروقی – افغانستان۔ 12ویں کھلاڑی: اینریچ نورٹجے – جنوبی افریقہ