اسرائیل اور غزہ کے حوالے سے متوازن موقف اپنانا چاہتے ہیں: برطانوی وزیر خارجہ

تاثیر۷      جولائی ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

لندن،07جولائی:برطانیہ کے نئے وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے زور دے کر کہا ہیکہ ان کا ملک مشرق وسطیٰ میں جنگ کے حوالے سے متوازن موقف اختیار کرنا چاہتا ہے اور جنگ بندی اور حماس کے ہاں قیدیوں کی رہائی کو یقینی بنانے کے لیے سفارتی کوششیں بروئے کار لائے گا۔خبر رساں ادارے ’رائیٹرز‘ کے مطابق لیمی نے ہفتے کے روز برلن میں ایک انٹرویو میں کہا کہ “یہ وقت برطانیہ کے لیے بیرونی دنیا کے ساتھ دوبارہ رابطہ کرنے کا ہے”۔انہوں نے کہا کہ “میں اسرائیل اور غزہ پر متوازن موقف اختیار کرنے کی طرف واپس آنا چاہتا ہوں۔ ہم نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ہم جنگ بندی دیکھنا چاہتے ہیں اور ہم ان یرغمالیوں کی رہائی چاہتے ہیں”۔انہوں نے مزید تفصیلات بتائے بغیرکہا کہ “لڑائی بند ہونی چاہیے اورغزہ میں امداد داخل ہونی چاہیے۔ میں جنگ بندی کو یقینی بنانے کے لیے تمام سفارتی کوششوں کو بروئے کار لاؤں گا۔لیمی نے کہا کہ برطانیہ کلیدی تعلقات کے علاوہ یورپی طاقتوں اور ابھرتی ہوئی طاقتوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر کرے گا۔ اس کے ساتھ موسمیاتی بحران سمیت بعض مسائل پر اپنی عالمی پوزیشن کو دوبارہ ترتیب دینے کی کوشش کرے گا۔برطانیہ اور یورپی یونین کے درمیان سکیورٹی معاہدے کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ “آئیے بریکسٹ کے سالوں کو اپنے پیچھے رکھیں۔ بہت سی چیزیں ہیں جو ہم مل کر کر سکتے ہیں۔جمعہ کے روز برطانوی انتخابات میں لیبر پارٹی کی بھاری اکثریت سے کامیابی کے بعد ڈیوڈ لیمی اس وقت اپنے پہلے غیر ملکی دورے پر جرمنی کا دورہ کر رہے ہیں۔ لیبر پارٹی نے 14 سالہ کنزرویٹو حکمرانی کا خاتمہ کیا۔
برطانوی دفتر خارجہ نے کہا کہ لیمی آج اتوار کو پولینڈ اور سویڈن جائیں گے جہاں وہ نیٹو میں تعاون اور یوکرین میں جنگ سمیت دیگر شعبوں پر اپنی بات چیت پر توجہ مرکوز کریں گے۔پارلیمانی انتخابات میں زبردست کامیابی کے باوجود جمعہ کو ہونے والے انتخابات کے دوران لیبر پارٹی کو ان علاقوں میں بڑے دھچکے لگے جہاں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد غزہ میں جنگ کے بارے میں پارٹی کے موقف پر برہم تھی۔