ایک عدد سڑک کو ترستا دربھنگہ کا ’’گوٹھانی‘‘ گاؤں

تاثیر۳      جولائی ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

دربھنگہ  3 جولائی (محمد شاہد)دربھنگہ کے گوٹھانی گاؤں کی خستہ حالی کا عالم یہ ہے کہ یہاں بس یا کسی بڑی گاڑی تک پہنچنے  کے لیے 6 کلومیٹر سے زائد کا سفر پیدل یا کسی چھوٹی گاڑی سے انتہائی مشکلات کے ساتھ طے کرنا پڑتا ہے۔گاؤں میں علاج کے لیے کوئی سرکاری ہسپتال نہیں ہے اور نہ ہی سرکار کی سوچھتا ابھیان کے تحت صفائی کی ذرا برابر جھلک گاؤں میں کہیں نظر آتی ہے۔حد تو یہ ہے کہ گاؤں میں داخل ہوتے ہی بدبو کی وجہ سے ناک پر رمال یا ماسک لگانا پڑتا ہے۔
 گاؤں کے باشندوں کا کہنا ہے کہ سڑک کی دونوں جانب تقریبا 15 برسوں سے ہمیشہ کوڑوں کا ڈھیر جمع ہوتا ہے جس کی وجہ سے موٹر سائکل اور سائکل کی آمد و رفت بھی مشکل سے ممکن ہو پاتی ہے۔پکی سڑک ہے لیکن نالے اور گندے پانی کے اخراج کا کوئی راستہ نہیں ہے جس کی وجہ سے ہلکی برسات میں بھی سڑک گندے نالے میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
یہ گاؤں دربھنگہ شہر سے تقریباً 68 کیلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے، قریب میں کوشیشور استھان اسمبلی حلقہ ہے، پالیمانی حلقہ سمستی پور ہے جہاں سے حالیہ انتخابات میں نوجوان رکن پارلیمان شامبھوی چودھری رکن پارلیمان منتخب ہوئی ہیں اور لوگوں کو ان سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں لیکن آزادی کے 77 سال گزر جانے کے بعد بھی گاؤں سڑک سے محروم ہے۔
گاؤں کے لوگ بتاتے ہیں کہ ہسپتال اور سڑک نہیں رہنے کی وجہ سے اچانک کسی کا بیمار پڑنا گاؤں کے تمام لوگوں کو مشکل میں ڈال دیتا ہے، سہولیات کی عدم دستیابی کے سبب دوسرے گاؤں کے لوگ یہاں اپنے بچوں خصوصاً بچیوں کا رشتہ کرنے سے ڈرتے ہیں۔ شادی بیاہ مستقل ایک مسئلہ بنا ہوا ہے، جب دولہا دلہن کو بپن چوک سے پیدل یا کسی چھوٹی گاڑی سے بے انتہا مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے گوٹھانی گاؤں کی طرف لے کر بڑھتا ہے تو ایک الگ نظارہ ہوتا ہے۔
پچھلے مہینہ کی 22 تاریخ کو گاؤں کے ایک بھائی جناب مولانا نورالدین صاحب کی بارات گوٹھانی سے ضلع سوپول کے قصبہ گنیش پور جانے کے لیے سج سنور کر تیار ہوئی۔گھر والوں نے اے سی بس کا نظم کیا لیکن ٹوٹی اور جرجر سڑک کی وجہ سے بس گاؤں تک نہیں پہنچ سکی۔نتیجتاً لوگوں کو پیدل یا بائک سے 6 کلو میٹر کا صعوبتوں بھرا سفر صرف بس پر سوار ہونے کے لیے طے کرنا پڑا۔پچاس ڈگری درجہ حرارت والی گرمی کی وجہ سے 6 کلو میٹر پیدل چل کر بس پر سوار ہونے کے بعد لوگوں نے گویا دوبارہ زندگی کا احساس کیا۔چار اضلاع جن میں دربھنگہ، سمستی پور، سہرسہ اور مدھوبنی کو پار کرنے کے بعد بس سپول کے گنیش پور پہنچی۔
تقریب میں گاؤں اور قرب و جوار کے معزز حضرات شریک تھے۔شادی خانہ پہنچتے پہنچتے بہت سے باراتیوں کو ہیٹ اسٹروک کی شکایت ہو گئی، کچھ کو بخار آ گیا اور بہت سے لوگ نڈھال ہو کر کھانا کھائے بغیر ہی سو گئے۔باراتیوں میں سے بیشتر کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اب کبھی بارات نہیں جائیں گے۔صبح بارات واپس لوٹی لوگ اپنے گھر پہنچنے کی خوشی میں قدرے خوشی محسوس کر رہے تھے کہ پھر بپن چوک پر بس نے چھوڑ دیا اب وہاں سے گوٹھانی کے لیے چھ کلو میٹر کا سفر ایک بار پھر لوگوں کے لیے اذیت ناک تھا۔
وزیراعظم سے لیکر وزیر اعلیٰ اور مقامی رکن پارلیمان سے لیکر رکن اسمبلی تک جس اسمارٹ گاؤں کو بنانے کا ڈھول پیٹتے رہے ہیں اس کا یہ ایک نمونہ ہے۔بد سے بدتر زندگی گزار رہے علاقے کے لوگوں نے بتایا کہ انہیں ہمیشہ رہنماوں کے ذریعہ ٹھگنے کا کام کیا گیا ہے، جب الیکشن کا موسم آتا ہے تو سیاسی رہنما پل اور سڑک بنانے کا وعدہ کرکے چلے جاتے ہیں مگر پھر پانچ سال تک دکھائی بھی نہیں دیتے۔