بارش سے دربھنگہ شہر کے متعدد علاقے جھیل میں تبدیل سڑک کا برا حال

تاثیر۶      جولائی ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

 دربھنگہ(فضا امام) 6 جولائی- دربھنگہ ضلع میں گزشتہ 48 گھنٹوں سے رک رک کر ہو رہی بارش کی وجہ سے موسم کا انداز بدل گیا ہے۔ لوگوں کو گرمی سے راحت ملی ہے۔ دوسری جانب بارش نے شہر کا چہرہ ہی بدل کر رکھ دیا ہے۔ میونسپل کارپوریشن کے بیشتر علاقوں میں آبی جماؤ ہونے کی صورتحال برقرار ہے۔ مانسون شروع ہونے سے پہلے کارپوریشن انتظامیہ دعویٰ کر رہی تھی کہ اس بار پانی بھرنے کی صورتحال پیدا نہیں ہونے دی جائے گی،لیکن مانسون کی پہلی دستک نے کارپوریشن انتظامیہ کے تمام دعووں کی پول کھول دی ہے۔درحقیقت مون سون کی پہلی بارش نے شہر کی صفائی اور نکاسی کے نظام کو پوری طرح سے بے نقاب کر دیا ہے۔ شہر کے بیشتر محلوں میں بارش کا پانی جم گیا ہے۔ صفائی نہ ہونے کی وجہ سے نالے کی گندگی سڑک پر اُبھر آئی ہے جس کی وجہ سے لوگوں کا پیدل چلنا مشکل ہوگیا ہے۔ لوگ پینے کے پانی کے لیے گھٹنوں تک گندے پانی میں چلنے پر مجبور ہیں۔ بارش نے ایک بار پھر لوگوں کو مشکلات میں ڈال دیا ہے۔بارش سے فیض اللہ خاں ،سی ایم ساینس کالج،پرانی منصفی ،دربھنگہ میو نسپل کارپوریشن ،دربھنگہ ٹاور،لال باغ ،میر شکار ٹولہ،چونا بھٹی ،لکچھمی ساگر ،خان چوک ،بنگالی ٹولہ ،بلبھدرپور ،نیو بلبھدر پور،ڈی ایم سی ایچ ،ملت کالج ،بی بی پاکر ،اسماعیل گنج، اردو وغیرہ محلےاور علاقے کا بہت برا حال ہے ۔کہیں ایک فٹ تو کہیں دو فٹ پانی جمع ہے ۔جس کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔کہیں دکانوں میں بھی پانی داخل ہو گیا ہے۔ لوگوں کے مطابق پانی جمع ہونے سے گھروں میں پانی داخل ہونا شروع ہو گیا ہے۔ وہیں مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ میونسپل کارپوریشن کا بیشتر علاقہ پانی میں ڈوب گیا ہے۔ نالوں کی بروقت صفائی نہ ہونے کی وجہ سے سڑک اور نالے کے درمیان کا فاصلہ ختم ہو گیا ہے۔ لوگ اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر آتے جاتے ہیں۔ گندے پانی میں آنے سے ہر وقت زہریلے کیڑوں اور انفیکشن کا خدشہ رہتا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ ساون بھادو کے مہینے کی بارشیں ابھی باقی ہیں۔
اس کے ساتھ ہی متھلانچل کا سب سے بڑا اسپتال ڈی ایم سی ایچ کا بھی برا حال ہے۔ ڈی ایم سی ایچ کے بیشتر جگہوں پر آبی جماؤ ہے۔