تلنگانہ: سابق وزیراعلیٰ، کے سی آر کو بڑا جھٹکا، پارٹی کے 6 بڑے لیڈروں نے کانگریس کا ہاتھ تھام لیا

تاثیر۳      جولائی ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

حیدرآباد،05 جولائی:تلنگانہ اسمبلی انتخابات 2023 کے بعد، بھارت راشٹرا سمیتی کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ، کے چندر شیکھر راؤ کے دن ٹھیک نہیں چل رہے ہیں۔ انہیں آئے روز نئے جھٹکوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ نومبر سے لے کر اب تک ان کی پارٹی کے رہنما رخ بدل رہے ہیں۔ تازہ ترین معلومات کے مطابق، جمعرات کی رات دیر گئے پارٹی کے چھ MLCs نے اپنا رخ بدل لیا۔ وہ کانگریس پارٹی میں شامل ہو گئے ہیں۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق یہ سب کچھ آسانی سے اور بغیر کسی جلد بازی کے ہوا۔بی آر ایس ایم ایل سی نے جمعرات کی رات تقریباً ایک بجے ریاستی وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی اور ریاستی کانگریس انچارج دیپا داس منشی کی موجودگی میں کانگریس میں شمولیت اختیار کی۔ ان میں بھانو پرساد، بسوا راجو سرایا، ڈنڈے وٹھل، ایم ایس پربھاکر، یگے ملیشم اور بوگراپو دیانند شامل ہیں۔ذرائع سے موصولہ اطلاع کے مطابق یہ تمام 6 ایم ایل سی جمعرات کی شام شہر کے ایک ہوٹل میں جمع ہوئے اور تقریباً 11:30 بجے سی ایم ریونت ریڈی کی رہائش گاہ پہنچے۔ سی ایم کے دہلی سے واپس آنے کے بعد سبھی لیڈروں نے کانگریس کی رکنیت لے لی۔ وزیر ریونیو پونگولیٹی سرینواس ریڈی، سابق وزیر سدرشن ریڈی، کانگریس کے سینئر لیڈر سریندر ریڈی اور دیگر موجود تھے۔ اس سے پہلے 6 ایم ایل اے بھی پارٹی چھوڑ کر بی آر ایس میں شامل ہو چکے ہیں۔بھارت راشٹرا سمیتی میں شامل ہونے والوں میں دانا ناگیندر، کڈیم سری ہری، تیلم وینکٹ راو?، پوچارم سری نواس ریڈی، سنجے کمار اور کالے یادیہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ تلنگانہ قانون ساز کونسل کے چیئرمین گٹا سکھیندر ریڈی کے بیٹے امیت نے بھی پارٹی میں شمولیت اختیار کی ہے۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ بی آر ایس اپنے لیڈروں کے پارٹی چھوڑنے کی وجہ سے پہلے ہی مشکل میں ہے۔ بی آر ایس سے چھ ایم ایل سی کی حالیہ علیحدگی پارٹی کے لیے اور بھی شرمناک ہے۔