دہلی ہائی کورٹ کے جج نے یاسین ملک کے کیس سے خود کو الگ کرلیا

تاثیر۱۱  جولائی ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

نئی دہلی، 11 جولائی: دہلی ہائی کورٹ کے ایک جج نے قتل اور ٹیرر فنڈنگ کے معاملے میں قصوروار قرار یئے جا چکے یاسین ملک کو پھانسی کی سزا کے قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کے مطالبے کی سماعت سے خود کو الگ کر لیا ہے۔ یہ معاملہ جسٹس پرتیبھا سنگھ کی بنچ میں لسٹیڈ تھا۔ اس بنچ کے ایک رکن جسٹس امت شرما نے سماعت سے خود کو الگ کر لیا۔ اب اگلی سماعت 9 اگست کو اس بنچ کے سامنے لسٹ ہوگا جس کے جسٹس امت شرما رکن نہیں ہوں گے۔
جسٹس امت شرما نے 2010 میں این آئی اے پراسیکیوٹر کے طور پر کام کیا تھا۔ اس وجہ سے انہوں نے اس کیس کی سماعت سے خود کو الگ کر لیا ہے۔ ہائی کورٹ نے این آئی اے کی درخواست پر یاسین ملک کو 29 مئی 2023 کو نوٹس جاری کیا تھا۔ سماعت کے دوران سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا تھا کہ ٹرائل کورٹ نے یاسین ملک کے خلاف الزامات کو درست پایا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ عجیب بات ہے کہ کوئی ملک کی سالمیت کو توڑنے کی کوشش کرے اور بعد میں کہے کہ میں اپنی غلطی مانتا ہوں اور ٹرائل کا سامنا نہ کرے ۔ یہ قانونی طور پر درست نہیں ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ این آئی اے کے پاس پختہ ثبوت ہیں کہ ملک نے کشمیر کا ماحول خراب کرنے کی کوشش کی۔
مہتا نے کہا تھا کہ وہ مسلسل مسلح بغاوت کر رہا تھا۔ وہ فوجی جوانوں کے قتل میں ملوث تھا۔ کشمیر کو الگ کرنے کی باتیں کرتے رہے۔ کیا یہ ریئریسٹ آف ریئر کیس نہیں ہوسکتے؟ مہتا نے کہا کہ تعزیرات ہند کی دفعہ 121 کے تحت حکومت ہند کے خلاف جنگ چھیڑنے کی صورت میں سزائے موت کا انتظام ہے۔ ایسے مجرم کو سزائے موت ملنی چاہیے۔
قابل ذکر ہے کہ 25 مئی 2022 کو پٹیالہ ہاوس کورٹ نے یاسین ملک کو قتل اور دہشت گردی کی فنڈنگ کیس میں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ 10 مئی 2022 کو یاسین ملک نے اپنے جرم کا اعتراف کیا تھا۔