راہل گاندھی کی 100 منٹ کی تقریر کے کئی حصے غائب

تاثیر۲      جولائی ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

نئی دہلی، 2 جولائی:کل، کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے پارلیمنٹ کے اجلاس میں اپوزیشن لیڈر کے طور پر اپنی پہلی تقریر کی۔ راہل گاندھی نے لوک سبھا میں جب تقریر کی تو کافی ہنگامہ ہوا اور انہوں نے 90 منٹ سے زیادہ تقریر کی، لیکن ان پر ہنگامہ آرائی کے بعد مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے لے کر پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو تک سبھی نے شکایت کی۔ جس کے بعد اسپیکر اوم برلا نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے راہل گاندھی کی تقریر کے کئی حصوں کو ہٹا دیا ہے۔دراصل لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے بی جے پی اور مرکزی حکومت پر سخت حملہ کیا ہے۔ انہوں نے بی جے پی لیڈروں پر لوگوں کو فرقہ وارانہ خطوط پر تقسیم کرنے کا الزام لگایا ہے۔ راہل گاندھی کے اس حملے کی حکمراں جماعت نے سخت مخالفت کی تھی۔ راہل گاندھی کی تقریر کے بیچ میں خود وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنی نشست سے اٹھنا پڑا۔ انہوں نے پوری ہندو برادری کو پرتشدد کہنے پر راہل گاندھی پر جوابی حملہ کیا اور معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔پی ایم مودی سمیت کابینہ کے وزراء نے اعتراض ظاہر کیا۔غور طلب بات یہ ہے کہ پی ایم مودی نے راہل گاندھی کی تقریر میں دو بار مداخلت کی، اس کے علاوہ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ، وزیر داخلہ امیت شاہ اور وزیر زراعت راج ناتھ سنگھ سمیت کئی وزراء نے راہل پر اپنا اعتراض ظاہر کیا۔ وزیر داخلہ امت شاہ نے راہل گاندھی سے کہا کہ وہ ہندوؤں کے بارے میں اپنے تبصروں پر معافی مانگیں۔