سفر حج کا ہر لمحہ اللہ کی رضا کا سرچشمہ اور شان بندگی کا حسین مظہر ہے: مفتی محمد جمال اکبر مظفرپوری

تاثیر۱۱  جولائی ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

مفتی محمد جمال اکبر مظفرپوری کے سفر حج سے واپسی پر جامعہ اسلامیہ مظفرپور میں دعائیہ تقریب کا انعقاد 
مظفرپور:11/ جولائی(پریس ریلیز) حج ایک مقدس عمل ہے،اللہ تعالیٰ جس پر کرم فرماتا ہے۔ انہیں حج جیسی عظم سعادت سے نواز دیتا ہے اور روضۂ مبارک ﷺ کے دیدار سے مشرف کرتا ہے۔ ان خیالات کااظہار جامعہ اسلامیہ مظفرپور کے رکن مولانا سید احتشام حسین قاسمی نے کیا۔ وہ جامعہ اسلامیہ مظفرپور کے مہتمم مفتی محمد جمال اکبر مظفرپوری کے سفر حج سے واپسی پر جامعہ اسلامیہ مظفرپور زکریا کالونی میں منعقد دعائیہ تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ اس موقع پر مفتی محمد جمال اکبر مظفرپوری نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فریضۂ حج کی ادائےگی اور اپنے رب اور اللہ کے حبیب، محبوبِ دوعالم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے روضۂ انور اور مدینہ منورہ کی حاضری کا منظر بیان کرنا، مشاہداتِ سفر کو بیان کرنا، اسے لفظوں کے اسلوب اور پیرائیہ بیان میں سمونا مشکل ہی نہیں، بڑی حد تک ناممکن بھی ہے۔ بلاشبہ، اس مقدّس سفر کا ہر لمحہ مقدّس و مبارک، اللہ کی رضا کا سرچشمہ اور اس کے قرب کا وسیلہ و شانِ بندگی کا حسین مظہر ہے۔ مفتی جمال اکبر نے کہا کہ حج اس کے دوام کو چاہتا ہے۔ بہترین عمل وہ ہے جس میں دوام ہو، سفر حج ایک اہم ترین عبادت ہے اگر کوئی مسلمان عظمت اور ثواب کی نیت سے خانہ کعبہ کا سفر کرے اور اس کو دیکھ لیا تو اس کو سفر میں کسی چیز کی کمی محسوس نہیں ہوتی ہے۔ جس کو حرمین کی زیارت ہوگئی تو یہ سب سے بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سفر حج پر جانے سے پہلے اس کی تیاری کریں۔حجاج، اللہ تعالیٰ کے مہمان ہوتے ہیں اور اللہ کے مہمانوں کی خدمت میں اہل عرب کسی سے پیچھے نہیں رہتے۔یہاں لاکھوں کے مجمعے کے لیے ہزاروں کی تعداد میں کنٹینرزمیں انواع و اقسام کے کھانے، پانی، ڈرائی فروٹس، آئس کریم، فروٹ جوسز اور لسّی، دہی وغیرہ تقسیم کیے جاتے ہیں۔ حج ایک عظیم عبادت ہی نہیں بلکہ ایک دعوتی مشن بھی ہے اور اس میں بہت سے واضح پیغام بھی ہیں۔ دنیا کہ تمام حاجیوں کا ایک اللہ کی رضا اور اخلاص کی خاطر، ایک رسول کی اطاعت کرتے ہوئے، ایک ہی وقت میں، ایک ہی لباس (احرام) میں، ایک ہی کلمہ (تلبیہ) پڑھتے ہوئے، متعینہ وقت پر ایک ہی جگہ جمع ہونا اور ایک جگہ سے دوسری جگہ ایک ساتھ آنا جانا، آپسی اتحاد و اتفاق اور مساوات و برابری کا عملی مظاہرہ ہے تو ساتھ ہی رنگ و نسل، زبان و لباس، زمان و مکان، عرف و حیثیت غرض تقسیم و تفریق اور انتشار وافتراق کی ساری بنیادوں کو زمیں بوس کرنے اور اللہ کے قرب اور حقیقی سربلندی کے لئے صرف تقوی اور للہیت کو پیمانہ اور معیار قرار دینے کا اعلان بھی۔ دعائیہ تقریب کا آغاز جامعہ اسلامیہ مظفرپور کے طلبہ محمد فیضان اور ابوبکر کی تلاوت قرآن مجید سے ہوا اور نعت رسول حافظ حارث رحمانی، محمد امداد اللہ، محمد احمد نے پیش کیا پروگرام کی نظامت اسلم رحمانی نے جبکہ صدارت مولانا صادق قاسمی نے کی، اس موقع پر مفتی آصف قاسمی، مولانا سید احتشام حسین قاسمی، قاری اشتیاق احمد قاسمی، حکیم مظفر حسین اجمل، خالد رحمانی، علی امام، حاجی محمد شعیب،اسلم آزاد، قاری عبد الرحیم رحمانی، معصوم رضا،محمد رضوان، کلام الدین، مولانا ذاکر حسین، مولانا عدیل،حافظ عبد السمیع،قاری مطیع الرحمن اور ماسٹر محمد دلشاد وغیرہ بھی موجود تھے۔ فلسطین کی آزادی کی دعا کے ساتھ پروگرام کا اختتام ہوا۔