غزہ پر مسلسل اسرائیلی حملے جاری، اونروا کے 2 ارکان جاں بحق

تاثیر۷      جولائی ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

غزہ،07جولائی:غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی تباہ کن جنگ اپنے نویں مہینے میں داخل ہو رہی ہے اور اس کے باوجود دھماکوں اور میزائلوں کی آوازیں کم نہیں ہو رہیں۔ اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی پر بمباری مسلسل جاری ہے۔ فلسطینی وزارت صحت نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران غزہ کی پٹی کے ہسپتالوں میں کم از کم 87 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔ہفتے کے روز طبی ماہرین نے بتایا کہ وسطی غزہ کی پٹی میں نْصیرات پناہ گزین کیمپ میں ایک گھر پر فضائی حملے میں تین مقامی صحافیوں سمیت دس افراد شہید ہوگئے۔ حماس کے میڈیا دفتر کے مطابق ایک چوتھا صحافی پٹی کے شمال میں غزہ شہر میں جاں بحق ہوا۔نْصیرات سے تعلق رکھنے والے نوجوان محمد ابو مراحیل کا کہنا تھا کہ ہم اپنے گھروں میں سو رہے تھے کہ اچانک حملہ ہوا اور سارا ملبہ ہمارے اوپر گرا۔ یاد رہے شمال سے پیش قدمی کے بعد سات مئی کو اسرائیلی فوج نے پٹی کے انتہائی جنوب میں واقع شہر رفح میں زمینی کارروائی شروع کی جسے جنگ کے آخری مرحلے کے طور پر پیش کیا گیا۔
تاہم حالیہ ہفتوں میں کئی ان علاقوں میں لڑائیوں کا دوبارہ آغاز کیا گیا جن پر فوج نے پہلے کنٹرول کا اعلان کیا تھا۔ خاص طور پر شمالی غزہ کی پٹی میں غزہ سٹی کے مشرق میں واقع شجاعیہ محلے پر صہیونی فوج نے 27 جون کو زمینی کارروائی شروع کردی ہے۔شجاعیہ محلے میں ہفتہ کو بھی لڑائی جاری رہی۔ اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ شجاعیہ میں حماس کے دہشت گرد عناصر کو لڑائی کے دوران ختم کر دیا گیا ہے۔ سرنگوں سمیت ہتھیاروں اور انفراسٹرکچر کو تباہ کر دیا گیا ہے۔رفح میں بھی لڑائی جاری رہی، اسرائیلی فوج نے کہا کہ فضائیہ کی مدد سے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کر دیا گیا” اور کئی سرنگیں تباہ کرکے ہتھیار قبضے میں لیے گئے۔
فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (یو این آر ڈبلیو اے) نے اعلان کیا ہے کہ اس کے دو ملازمین البْریج کیمپ میں مارے گئے ہیں۔ یہ جارحیت اس وقت کی گئی ہے جب حماس غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے لیے نئے خیالات پر اسرائیل کی طرف سے جواب کا انتظار کر رہی ہے۔سات اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد شروع ہونے والی اسرائیلی جارحیت میں اب تک 38 ہزار سے زیادہ افراد کو شہید کردیا گیا۔ زیادہ تر خواتین اور بچوں سمیت عام شہریوں کی اموات ہوئی ہیں۔