فرانسیسی صدر نے نیتن یاہو پراسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی روکنے پر دیا زور

تاثیر۳      جولائی ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

پیرس،03جولائی:فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے منگل کے روز اسرائیلی رہنما بنجامن نیتن یاہو پر زور دیا کہ وہ لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کیدرمیان ’اشتعال‘ روکیں۔ یہ بات دونوں رہنماؤں کے درمیان ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران ہوئی۔فرانسیسی ایوانِ صدر نے ایک بیان میں کہا کہ میکرون نے “حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر اپنی شدید تشویش کا اعادہ کیا اور جنگی اشتعال کو روکنے کی مکمل ضرورت پر زور دیا جس سے لبنان کے ساتھ ساتھ اسرائیل کے مفادات کو بھی نقصان پہنچے”۔انہوں نے غزہ تنازع ختم کرنے کے لیے “تمام فریقوں کو تیزی سے سفارتی حل کی طرف بڑھنے کی فوری ضرورت” پر بھی زور دیا۔غزہ تنازعہ کے لیے امریکی ایلچی آموس ہوچسٹین بدھ کو پیرس کے دورے پر پہنچ رہے ہیں جس سے قبل ایلیسی پیلس نے کہا، “دونوں رہنماؤں نے اس حوالے سے جاری سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔غزہ میں جنگ بندی کو یقینی بنانے کی کوشش کے لیے جون میں ہوچسٹین نے اسرائیل اور لبنان کا دورہ کیا تھا جس کے بعد ان کی میکرون کے لبنان کے ایلچی ڑاں-ایو لی ڈریان سے ملاقات طے شدہ ہے۔ایلیسی نے کہا کہ میکرون نے نیتن یاہو سے رفح یا خان یونس کے قریب غزہ میں کسی بھی “نئی کارروائی” سے گریز کرنے کا بھی مطالبہ کیا “جس سے صرف انسانی ہلاکتوں اور بحرانی صورتِ حال میں اضافہ ہوگا جو پہلے ہی تباہ کن ہے۔اسرائیلی فوج نے پیر کے روز فلسطینیوں کو مصری سرحد کے ساتھ خان یونس اور رفح کے مشرق میں واقع بیشتر علاقوں کو خالی کرنے کا حکم دیا تھا۔فوج نے اگرچہ واضح طور پر فوجی کارروائی کا اعلان نہیں کیا لیکن ایسے احکامات عموماً بڑے حملوں سے پہلے دیئے جاتے ہیں۔یہ اعلان منگل کے روز جنوبی غزہ کے کچھ حصوں سے فلسطینیوں کے بڑے پیمانے پر اخراج کی وجہ بنا جب اسرائیلی افواج نے مہلک حملے کیے اور مزاحمت کاروں کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں۔