لوک سبھا کے رکن کے طور پرانجینئر رشید نے آج لیاحلف، ارکان خاندان بھی رہیں موجود

تاثیر۳      جولائی ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

نئی دہلی، 05 جولائی:جموں و کشمیر کی بارہمولہ سیٹ سے جیتنے والے انجینئر رشید آج لوک سبھا کے رکن کے طور پر حلف لے لیاہے۔ انجینئر رشید کو آج صبح تہاڑ جیل سے پارلیمنٹ ہاؤس لایاگیاہے۔ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے انجینئر رشید کو عہدہ اور راز دری کا حلف دلایاہے۔ یادرہیکہ 2 جولائی کو، دہلی کی پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) کی رضامندی کے بعد رشید کو پیرول دے دیا۔ انہیں میڈیا سے بات نہ کرنے سمیت کچھ شرائط کے ساتھ اجازت دی گئی ہے۔رشید نے حلف اٹھانے اور اپنی پارلیمانی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے عبوری ضمانت یا متبادل طور پر کسٹوڈیل پیرول کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا۔ عدالت نے کیس کی سماعت 22 جون کو ملتوی کرتے ہوئے این آئی اے سے جواب داخل کرنے کو کہا تھا۔ انجینئر رشید، اس وقت دہشت گردی کی مالی معاونت کے معاملے میں تہاڑ جیل میں بند ہیں۔ جیل میں رہتے ہوئے الیکشن لڑاتھا۔شیخ عبدالرشید، جو انجینئر رشید کے نام سے مشہور ہیں، دہشت گردی کی فنڈنگ ??کے ایک کیس میں 2019 سے تہاڑ جیل میں بند ہیں۔ جیل میں رہتے ہوئے انہوں نے شمالی کشمیر کی بارہمولہ سیٹ سے الیکشن لڑا اور یہ سیٹ بھاری ووٹوں سے جیتی۔ انجینئر رشید نے عمر عبداللہ اور سجاد لون کو شکست دی تھی۔راشد نے بارہمولہ سیٹ پر 4,72,481 ووٹ حاصل کیے تھے۔ انہوں نے نیشنل کانفرنس کے عمر عبداللہ کو 2,04,142 ووٹوں کے فرق سے شکست دی۔ عمر کو 2,68,339 ووٹ ملے۔ جبکہ پیپلز کانفرنس کے سجاد لون نے 1,73,239 ووٹ حاصل کیے تھے۔ بارہمولہ سیٹ پر سیدھا مقابلہ عبداللہ اور لون کے درمیان مانا جا رہا تھا لیکن رشید جیسے ہی میدان میں اترے بارہمولہ میں ماحول بدل گیا۔عوامی اتحاد پارٹی کے صدر؟ وہ دو بار ایم ایل اے رہ چکے ہیں۔ اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز 2008 میں کیا۔ انہوں نے تعمیراتی انجینئر کی ملازمت سے استعفیٰ دینے کے بعد سیاست کا آغاز کیا۔ محض 17 دن کی مہم کے بعد، انہوں نے شمالی کشمیر کے کپواڑہ ضلع کے ہندواڑہ قصبے کے لنگیٹ کے حلقے سے کامیابی حاصل کی تھی۔ انہوں نے پہلی بار لوک سبھا انتخابات میں کامیابی حاصل کی ہے۔