لکھنؤ کا رومی دروازہ محرم کے لیے کھول دیا گیا

تاثیر۴      جولائی ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

لکھنؤ، 04 جولائی: محکمہ آثار قدیمہ کی حفاظت میں لکھنؤ کے رومی دروازے کی مرمت کا کام جاری ہے۔ اس لیے رومی دروازہ تقریباً دو سال تک بند رکھا گیا۔ اس بار محرم کے موقع پر رومی دروازہ دو سال بعد کھولا گیا ہے۔رومی دروازہ کھلنے پر مقامی لوگوں نے خوشی کا اظہار کیا۔ اپنے ردعمل میں لوگوں نے کہا کہ رومی دروازہ لکھنؤ کا فخر ہے۔ امام باڑہ کے علاقے میں بنائے گئے رومی دروازے کو دیکھنے کے لیے سیاحوں کی خواہش ہوتی ہے۔ رومی دروازہ دو سال سے زائد عرصے سے مرمت کے نام پر بند ہے۔ اسے کھول کر بہت خوشی ہوئی۔تزئین و آرائش کے دوران کی گئی پینٹنگ کی وجہ سے رومی دروازہ چمکدار ہو گیا ہے۔ دور سے دیکھا جائے تو رومی دروازہ اپنے نئے رنگ میں نظر آتا ہے۔ محکمہ آثار قدیمہ کے سپرنٹنڈنگ آرکیالوجسٹ ڈاکٹر آفتاب حسین نے کچھ عرصہ قبل ایک بیان میں کہا تھا کہ رومی دروازہ اب صرف عوام کے دیکھنے کے لیے رہے گا۔ کمرے کا دروازہ نہیں کھولا جائے گا۔
ڈاکٹر آفتاب کے بیان کے تقریباً دو ماہ بعد جب رومی دروازہ کھولا گیا تو مسلم مذہبی رہنماؤں اور شیعہ برادری کے لوگوں نے اتر پردیش حکومت کا شکریہ ادا کیا۔ شیعہ برادری کے سرکردہ افراد نے کہا کہ محرم کو رومی دروازہ کھولنے کے بعد اسے مسلسل کھلا رکھا جائے، تاکہ باہر سے لوگ اس کی خوبصورتی دیکھنے آتے رہیں۔