پزشکیان کو ابراہیم رئیسی کے نقش قدم پر چلنا چاہیے: خامنہ ای

تاثیر۷      جولائی ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

تہران،07جولائی:ایران کے نومنتخب اصلاح پسند کی صدارتی الیکشن میں کامیابی کے بعد سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے انہیں مشورہ دیا ہے کہ وہ سابق صدر ابراہیم رئیسی کے نقش قدم پر چلیں۔انہوں نے کہا کہ منتخب صدر کو ابراہیم رئیسی کے راستے پر چلنا چاہیے۔مقامی میڈیا کی طرف سے شائع ہونے والے ان کے مکتوب میں خامنہ ای نے نو منتخب صدر پر زور دیا کہ وہ “عوام کی فلاح وبہبود اور ملک کی ترقی کے لیے ایران کے وسائل سے فائدہ اٹھائیں”۔انہوں نے انتخابات کو “آزاد اور شفاف” قرار دیتے ہوئے کہا کہ انتخابات میں 55 ملین سے زیادہ لوگوں نے ووٹ ڈالے۔ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق اصلاح پسند مسعود پزشکیان نے اپنے حریف قدامت پسند سعید جلیلی کو انتخابات کے دوسرے مرحلے میں شکست دے دی۔اس سے قبل وزارت داخلہ کے اعلان کے مطابق 25 لاکھ 47 ہزار ووٹوں کی گنتی کے بعد پزشکیان کو 12 لاکھ 63 ہزار ووٹ جب کہ ان کے حریف سعید جلیلی کو 12 لاکھ 44 ہزار ووٹ ملے ہیں۔واضح رہے کہ اصلاح پسند مسعود پزشکیان مغرب کے ساتھ کشادہ تعلقات پر زور دیتے ہیں جب کہ قدامت پسند سعید جلیلی مغرب کے حوالے سے اپنے سخت مواقف کے سبب جانے جاتے ہیں۔ایران کے عوام نے گذشتہ روز (جمعے کو) صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں ووٹ ڈالے۔حالیہ صدارتی انتخابات کو بین الاقوامی سطح پر بھی توجہ حاصل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ میں وزن دار قوت کی حیثیت رکھنے والا ایران بہت سے جیو پولیٹیکل بحرانوں کے بیچ ہے۔ ان میں غزہ کی جنگ سے لے کر جوہری طاقت کا مسئلہ شامل ہے۔
ایران میں رجسٹرڈ ووٹروں کی مجموعی تعداد 6.1 کروڑ کے قریب ہے۔ ان کے لیے ملک بھر میں 58638 پولنگ مراکز بنائے گئے۔صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں پزشکیان کو 42.4% اور جلیلی کو 38.6% ووٹ ملے تھے۔ واضح رہے کہ 69 سالہ پزشکیان کو دو سابق اصلاح پسند صدور محمد خاتمی اور حسن روحانی کی حمایت حاصل ہے۔ ان کے 58 سالہ حریف جلیلی کو محمد باقر قالیباف کی تائید حاصل ہے جن کو پہلے مرحلے میں 13.8 فی صد ووٹ ملے تھے۔ایران میں 28 جون کو ہنگامی طور پر صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے کا انعقاد کیا گیا۔ اس کی وجہ سابق صدر ابراہیم رئیسی کا جاں نشیں منتخب کرنا ہے۔ رئیسی 19 مئی کو ہیلی کاپٹر کے حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے۔