پٹنہ ہائی کورٹ سے نہیں ملی عصمت دری کے ملزمین کو راحت ، درخواست مسترد

تاثیر۳      جولائی ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

پٹنہ، 5 جولائی: پٹنہ ہائی کورٹ نے نابالغہ کی عصمت دری کے ملزم کو کوئی راحت نہیں دی ہے۔ عدالت نے نچلی عدالت کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے اپیل مسترد کر دی ہے۔ جسٹس ا?شوتوش کمار اور جسٹس جتیندر کمار کی ڈویزن بنچ نے دائر فوجداری اپیل کی سماعت کی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ 24 سالہ ملزم نے آٹھویں جماعت میں پڑھنے والی نابالغہ طالبہ کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔
ملزم نے نابالغہ کو تنبیہ کی کہ وہ اس واقعہ کے بارے میں کسی کو نہیں بتائیں۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر اطلاع دی گئی اور مقدمہ درج کیا گیا تو نتائج بھگتنا ہوں گے۔ اس کے بعد طالب علم نے ا?نگن باڑی سیویکا کو واقعہ کی مکمل معلومات دی۔ ماں نے یہ بات اپنے شوہر کو بتائی۔ جس کے بعد شوہر ملزم کے گھر گیا اور واقعہ کے بارے میں دریافت کیا۔ ملزم کے اہل خانہ نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ واقعہ لڑکی کی لڑکے سے شادی کرنے کے لیے کیا گیا۔
اس معاملے پر پنچایت بلائی گئی لیکن ملزم پنچایت میں نہیں ا?ئے۔ جس کے بعد بھاگلپور کے سنوکھر تھانے میں مقدمہ نمبر 132/22 درج کیا گیا۔پاکسو عدالت نے ملزم کو قصوروار پایا اور اسے 20 سال قید اور 20,000 روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ اس سزا کو ہائی کورٹ میں فوجداری اپیل دائر کر کے چیلنج کیا گیا تھا۔ عدالت نے نچلی عدالت کے فیصلے میں کوئی خامی نہ پاتے ہوئے مداخلت کرنے سے انکار کر دیا اور اپیل خارج کر دیا۔