ہائی کورٹ کے جج نے دہلی تشدد کی سازش سے جڑے ملزم کی ضمانت کی سماعت سے خود کو الگ کرلیا

تاثیر۴      جولائی ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

نئی دہلی، 04 جولائی : دہلی ہائی کورٹ کے جج امت شرما نے دہلی تشدد کی سازش کے ملزم شرجیل امام اور میران حیدر کی درخواست ضمانت پر سماعت سے خود کو الگ کر لیا ہے۔ اب ان کی ضمانت کی درخواستوں کی سماعت ایک بنچ کرے گی جس میں جسٹس امت شرما رکن نہیں ہوں گے۔اس سے پہلے دو دیگر بنچوں نے ان کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی تھی۔ سب سے پہلے ان کی ضمانت کی درخواستوں کی سماعت جسٹس سدھارتھ مردول اور جسٹس رجنیش بھٹناگر کی بنچ نے کی۔ اس کے بعد جسٹس سریش کیت اور جسٹس منوج جین نے سماعت کی۔دہلی تشدد کی سازش سے متعلق جن ملزمان نے ہائی کورٹ میں ضمانت کی درخواست دائر کی ہے ان میں شرجیل امام، خالد سیفی، گلفشاں فاطمہ، میران حیدر، شاداب احمد، اطہر خان، شفا الرحمان اور سلیم خان شامل ہیں۔ ہائی کورٹ دہلی پولیس کی اس درخواست پر بھی سماعت کر رہی ہے جس میں اس معاملے کی ایک ملزم عشرت جہاں کو دی گئی ضمانت کو چیلنج کیا گیا ہے۔قابل ذکر ہے کہ 18 اکتوبر 2022 کو ہائی کورٹ نے اس کیس کے ملزم عمر خالد کی درخواست ضمانت مسترد کر دی تھی۔ عمر خالد نے ہائی کورٹ کے حکم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔اس مقدمے میں جن افراد کو ملزم بنایا گیا ہے ان میں صفورا زرگر، طاہر حسین، عمر خالد، خالد سیفی، عشرت جہاں، میران حیدر، گلفشاں، شفا الرحمان، آصف اقبال تنہا، شاداب احمد، تسلیم احمد، سلیم ملک، محمد سلیم خان، اطہر خان، شرجیل امام، فیضان خان، نتاشا ناروال اور دیوانگن کلیتا۔ ان میں صفورا زرگر، آصف اقبال تنہا، دیوانگن کلیتا اور نتاشا ناروال کی ضمانت منظور کر لی گئی ہے۔