ہاتھرس واقعہ کی عدالتی تحقیقات ہوگی: یوگی

تاثیر۳      جولائی ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی صدارت میں کمیٹی بنائی جائے گی، افسروں کی ٹیم پہلے ہی تحقیقات میں ،مصروف ہے

ہاتھرس ، 3 جولائی: وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا ہے کہ ہاتھرس میں بھگدڑ کے واقعہ کی عدالتی تحقیقات کرائی جائے گی۔ ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں کمیٹی بنائی جائے گی۔ بدھ کو یہاں ایک پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ اس واقعہ میں 121 عقیدت مندوں کی موت ہوئی ہے۔ اتر پردیش کے ساتھ ساتھ ہریانہ ، راجستھان اور مدھیہ پردیش کے لوگ بھی تھے۔ اتر پردیش میں 16 اضلاع بشمول ہاتھرس ، بدایوں ، کاس گنج ، علی گڑھ ، ایٹا ، ہمیر پور ، آگرہ ، شاہجہاں پور ، گوتم بدھ نگر اور لکھیم پور کھیری کے عقیدت مندوں کی موت ہوئی ہے۔ مرنے والوں میں چھ کا تعلق دوسری ریاستوں سے تھا۔
وزیر اعلیٰ یوگی نے کہا کہ زخمیوں کا ہاتھرس ، ایٹا ، علی گڑھ اور آگرہ میں علاج کیا جا رہا ہے۔ میں نے زخمیوں سے بھی بات کی۔ ان سب کا کہنا ہے کہ یہ حادثہ پروگرام کے بعد ہوا۔ جب اس پروگرام میں ستسنگ کے اختتام کے بعد باباجانے لگے تو عورتوں کا ایک ہجوم انہیں چھونے کے لیے ان کی طرف بڑھ گیا۔ کچھ لوگ اس میں گر گئے۔ لوگ ان پر چڑھتے رہے۔ پھر ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ابتدا میں منتظمین نے انتظامیہ کو احاطے کے اندر جانے کی اجازت نہیں دی۔ حادثے کے بعد جب پولیس زخمیوں کو علاج کے لیے لے جانے لگی تو تمام اہلکار بھاگ گئے۔ سب سے پہلے راحت اور بچاؤ کا کام کیا جائے گا اور پھر منتظمین کے بیانات قلمبند کرنے ، ان سے پوچھ گچھ اور کارروائی کا کام کیا جائے گا۔ اسے محض حادثہ کہہ کر ٹالا نہیں جا سکتا۔ اس بات کی بھی تحقیقات کی جائیں گی کہ حادثہ کیسے پیش آیا۔ یہ حادثہ کہیں سازش تو نہیں ہے؟ سازش ہو گی تو مجرم ضرور ملیں گے۔ ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ تاکہ ایسا واقعہ دوبارہ نہ دہرایا جا سکے۔سی ایم یوگی نے کہا کہ اس پورے واقعہ کی تحقیقات ہائی کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج کی صدارت میں تشکیل دی گئی کمیٹی کرے گی۔ اے ڈی جی آگرہ زون کی قیادت میں افسران کی ایک ٹیم پہلے سے ہی تحقیقات کر رہی ہے۔ حکومت کے تین وزرا ہاتھرس میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔
اپوزیشن کے لوگوں کی طرف سے حکومت پر اٹھائے گئے سوال پر سی ایم یوگی نے کہا کہ کچھ لوگوں کی فطرت ایسی ہوتی ہے۔ ایسے واقعے پر سیاست کرنا بدقسمتی ہے۔ سب جانتے ہیں کہ منتظمین کے ساتھ کس کے روابط ہیں۔