ہالی ووڈ کے بڑے عطیہ دہندگان نے بھی بائیڈن کو صدارتی الیکشن سے دستبردار کرنے کا مطالبہ

تاثیر۷      جولائی ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

واشنگٹن،07جولائی:امریکی صدر جو بائیڈن کو 27 جون کو ٹرمپ کے خلاف ہونے والے مباحثے میں اپنی کمزور اور ہنگامہ خیز خراب کارکردگی کے بعد ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر سیان کی الیکشن سے دستبرداری کے لیے مسلسل مطالبات سامنے آ رہے ہیں۔اس حوالے سے ہالی ووڈ کے بڑے عطیہ دہندگان بھی میدان میں کود پڑے ہیں اورانہوں نے بھی جوبائیڈن کو آئندہ صدارتی انتخابات سے سبکدوش ہونے اور کسی اور لیڈر کو الیکشن لڑنے کی اجازت دینے پر زور دیا ہے۔ذرائع نے ’ایکسیس‘ نیوز ویب سائٹ کو بتایا کہ ہالی ووڈ کے بڑے عطیہ دہندگان بائیڈن سے صدارتی دوڑ سے دستبردار ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹک پارٹی کے ذرائع نے بتایا کہ ایوان میں کچھ ڈیموکریٹک قانون ساز دو الگ الگ حصوں میں تقسیم ہیں جس میں بائیڈن سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔’اے بی سی‘نے اطلاع دی ہے کہ امریکی ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹک اقلیت کے رہ نما حکیم جیفریز نے آج اتوار کو ایوان میں سینیر ڈیموکریٹس کے ساتھ بائیڈن کی نامزدگی اور اس کے بعد کے اقدامات پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے ایک ورچوئل میٹنگ کا اعلان کیا ہے۔مینیسوٹا سے نمائندہ اینجی کریگ نے بھی ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں صدر بائیڈن سے مطالبہ کیا کہ وہ قیادت اگلی نسل کو منتقل کرنے کے لیے ایک طرف ہٹ جائیں۔ اس طرح وہ ایوان نمائندگان کی پانچویں ڈیموکریٹک رکن ہیں جنہوں نے امریکی صدر سے یہ قدم اٹھانے کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے ریپبلکن حریف ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف صدارتی دوڑ سے دستبردار ہونے کے مطالبے کو مسترد کر دیا۔ بائیڈن کا انکار ڈیموکریٹک پارٹی میں ان کے ساتھیوں کے لیے ایک چیلنج کی نمائندگی کرتا ہے جو ووٹرز کی جانب سے انھیں ووٹ دینے میں ہچکچاہٹ کے بارے میں فکر مند ہیں۔بائیڈن جن کی عمر 81 سال ہے نے جمعہ کو وسکونسن ریاست میں ماڈیسون کے مقام پر اپنے حامیوں سے پرجوش خطاب میں کہا کہ”میں صدارتی انتخابات کی دوڑ میں جاؤں گا اور میں دوبارہ جیتوں گا۔’اے بی سی‘ نیوز کے ساتھ بائیڈن کے انٹرویو ایسا لگتا ہے کہ کچھ ڈیموکریٹس کے خدشات کو دور کرنے میں بہت کم کام کیا ہے۔آنے والے دنوں میں پارٹی کے اراکین یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ آیا وہ صدر کی حمایت کریں گے یا انہیں ہٹانے کے لیے تیزی سے آگے بڑھیں گے۔
رائے عامہ کے کچھ جائزوں میں بائیڈن پر ٹرمپ کی برتری میں واضح فرق ظاہر ہوتا ہے۔ ڈیموکریٹس کو خدشہ ہے کہ صدر کے حوالے سے خدشات ووٹنگ کے عمل میں پارٹی کے امکانات کو منفی طور پر متاثر کریں گے۔ ورجینیا کے سینیٹر مارک وارنر بائیڈن کی امیدواری کے معاملے پر بات چیت کے لیے پیر کو ایک میٹنگ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔لیکن بائیڈن نے ابھی تک اپنی بہترین کارکردگی بلومبرگ نیوز/مارننگ کنسلٹ پول میں ریکارڈ کی، جس میں ٹرمپ کی بائیڈن پر صرف دو فیصد پوائنٹس برتری دکھائی گئی ہے۔ یعنی نومبر کے انتخابات میں جیتنے کے لیے ضروری ریاستوں میں بائیڈن کو 45 فیصد اور ٹرمپ کے 47 فیصد پوائنٹس بیان کیے گئے ہیں۔بائیڈن آج اتوار کو اتوار کو فلاڈیلفیا اور ہیرسبرگ، پنسلوانیا میں دو انتخابی ریلیوں میں شرکت کریں گے۔