ہماچل پردیش میں 13 جولائی تک شدید بارش کا الرٹ، ایک درجن سڑکیں بند

تاثیر۱۱  جولائی ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

شملہ، 11 جولائی:ہماچل پردیش میں مانسون کی رفتار میں تاخیر کی وجہ سے ایک بار پھر بھاری بارش کا امکان ہے۔ محکمہ موسمیات نے اگلے دو دنوں یعنی 13 جولائی تک ریاست کے بیشتر حصوں میں شدید بارش کا ایلو الرٹ جاری کیا ہے۔ الرٹ کے پیش نظر محکمہ نے لوگوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ لینڈ سلائیڈنگ کے شکار علاقوں اور ندی -نالوں کے قریب نہ جائیں۔ ریاست میں 17 جولائی تک موسم خراب رہنے کا امکان ہے۔ دریں اثنا، راجدھانی شملہ سمیت ریاست کے دیگر حصوں میں آج مطلع ابر آلود ہے۔ ریاست میں پچھلے کچھ دنوں سے مانسون کی رفتار سست پڑی ہے۔
سولن ضلع کے کسولی میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سب سے زیادہ 38 ملی میٹر بارش ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ ضلع سرمور کے پاونٹا صاحب میں 22 ملی میٹر، ناہن میں 13 ملی میٹر اور کانگڑا ضلع کے صدر مقام دھرم شالہ میں 9 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ مانسون کی رفتار میں کمی کے باعث لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات میں کمی آئی ہے۔
ریاستی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی رپورٹ کے مطابق جمعرات کی صبح تک ریاست بھر میں لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے 12 سڑکیں بند ہونے کی وجہ سے گاڑیوں کی آمدورفت معطل رہی۔ اس کے علاوہ بجلی کے 6 ٹرانسفارمر اور ایک پینے کے پانی کے منصوبے میں خلل پڑا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شملہ ضلع میں پانچ، منڈی میں چار اور کانگڑا میں تین سڑکیں بلاک کی گئیں۔ ضلع چمبہ میں چار ٹرانسفارمر اور کلو اور منڈی میں ایک ایک ٹرانسفارمر بند ہونے سے بجلی کی سپلائی میں خلل پڑا ہے۔ بلاس پور ضلع میں پینے کے پانی کی سپلائی بھی ٹھپ ہوگئی ہے۔
مانسون سیزن میں 171 کروڑ روپے کا نقصان:
ریاستی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق مانسون سیزن کے پہلے دو ہفتوں میں سرکاری محکموں کو تقریباً 171 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ اس میں صرف محکمہ تعمیرات عامہ کو 101 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ مانسون ریاست میں 27 جون کو پہنچا تھا۔ ریاست میں مانسون کے موسم میں سیلاب کے مختلف واقعات میں آٹھ افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ پہاڑی سے پھسلنے اور گرنے سے چھ افراد کی موت ہو گئی ہے۔