Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 11th Jan.
جوشی مٹھ، 11 جنوری : اتراکھنڈ کے جوشی مٹھ لینڈ سلائیڈ سانحہ پر مدھیہ پردیش کی سابق وزیر اعلیٰ اوما بھارتی این ٹی پی سی کوواحد قصور وار قرار دیئے جانے کے بیان سے جوشی مٹھ کو بچانے کی تحریک کو نہ صرف نئی توانائی ملی ہے، بلکہ مرکزی حکومت کو بھی سرحدی جوشی مٹھ کی برسوں سے این ٹی پی سی پروجیکٹ کو بند کرنے کے مطالبے پر از سر غور کرنے کو مجبور کر دیا ہے ۔ سابق مرکزی وزیر اور مدھیہ پردیش کی سابق وزیر اعلیٰ اوما بھارتی منگل کو جوشی مٹھ لینڈ سلائیڈ سانحہ کا موقع پر معائنہ کرنے اور متاثرین کے دکھ جاننے کے لیے جوشی مٹھ پہنچی تھیں۔متاثرہ لوگوں سے ملاقات اور متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد اوما بھارتی نے کہا کہ شراب، کان کنی اور پاور پروجیکٹ مافیا کا گٹھ جوڑ اس ملک کو کھوکھلا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی وزیر رہتے ہوئے انہوں نے سپریم کورٹ میں ہمالیہ کو کھوکھلا کرنے والے بڑے منصوبوں کی مخالفت کرتے ہوئے حلف نامہ دیا تھا۔اوما بھارتی نے جوشی مٹھ میں موجودہ لینڈ سلائیڈنگ کو ایک بڑی تباہی کی محض علامت سمجھتے ہوئے کہا کہ این ٹی پی سی کی ٹنل اس سانحے کے لیے مکمل طور پر ذمہ دار ہے۔
سابق وزیر اعلیٰ اوما بھارتی نے کہا کہ جوشی مٹھ سانحہ پر وزیر اعظم کے دفتر کی طرف سے نگرانی کی جا رہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ گجرات کے کچھ اور بھوج اور اتراکھنڈ کے کیدارناتھ کو سانحہ سے بچانے والے وزیر اعظم نریندر مودی جوشی مٹھ کو بھی اس سانحے سے بچائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی ساز وہ لوگ ہیں جو ٹنل کے اندر نہیں مرتے، ہیلی کاپٹر سے سروے کرکے واپس آجاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ویدک مذہب کے بنیادی مرکز جگد گرو شنکراچاریہ کے مسکن جیوتیرمتھ-جوشی مٹھ کو کسی بھی صورت میں تباہ نہیں ہونے دیا جائے گا۔ فطرت، ماحول، ایمان اور انسانیت کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا، انہیں امید ہے کہ پشکر دھامی اور نریندر مودی جوشی مٹھ کو اس آفت سے نکالیں گے۔
سابق مرکزی وزیر اوما بھارتی کے جوشی مٹھ سانحہ کے لیے این ٹی پی سی کو ذمہ دار ٹھہرانے اور اس تباہ کن پروجیکٹ کے بند ہونے کے بیان کے بعد یہ بات واضح ہو گئی کہ کہ جوشی مٹھ بچاؤ سنگھرش سمیتی کے کنوینر کامریڈ اتل ستی جو اپنی ٹیم کے ساتھ پچھلے 14ماہ سے گھر گھر جا کر لوگوں کو بتا رہے تھے کہ جوشی مٹھ کھسک رہا ہے برباد ہو رہا ہے اور اب لینڈ سلائڈنگ کی شکل میں سامنے آرہا ہے ۔ اب بدلتے موسم کے بعد، تحریک جاری رکھنے کے ساتھ، لینڈ سلائیڈنگ سے متاثرہ علاقوں سے نکالے جانے والے خاندانوں کے ساتھ تعاون اور مدد کرنے کی ضرورت ہے۔