Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 14th Jan.
نئی دہلی: اسلامک فائنانس پر سیر طلب بحث کرنے والی ایک نئی اور اہم کتاب
‘’Islamic Capital Market Finance”
” کا رسم اجرا جماعت اسلامی ہند کے مرکز میں پروفیسر جاوید احمد خاں ، چیرمین انڈین سینٹر آف اسلامک فائنانس نئی دہلی و سابق چیرمین ڈپارٹمنٹ آف ویسٹ ایشین اسٹڈیز ، جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی کے بہ دست عمل میں آیا۔ کتاب کے مصنف ڈاکٹر ابو الحسن کنگ فہد یونیورسٹی آف پٹرولیم اینڈ منرلس ،سعودی عرب میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں ۔انہوں نے درہم بزنس اسکول یو کے سے پی ایچ ڈی کی ہے۔ یہ کتاب بورڈ اسلامک پبلیکشنز سے شائع ہوئی ہے۔
اجرا کی تقریب جناب محمد احمد سکریٹری شعبہ ملکی امور جماعت اسلامی ہند کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ پروگرام کا آغاز ڈاکٹر وقار انور کے افتتاحی کلمات سے ہوا جس میں انہوں نے کہا کہ اس کی تالیف فائنانس کے پوسٹ گریجویشن کے طلبہ کے لیے نصابی کتاب کے طور پر کی گئی ہے۔جناب سکندر احمد، معاون شعبہ مالیات مرکز جماعت اسلامی ہند نے کتاب کے مباحث کا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ اسلامک فائنانس کے نظری پہلو پر تو خاصی کتابیں لکھی گئی ہیں، لیکن اس کتاب کی انفرادیت یہ ہے کہ یہ عملی پہلو پر روشنی ڈالتی ہے۔ ڈاکٹر جاوید نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسلامک فائنانس کا موضوع گزشتہ نصف صدی میں ابھر کر سامنے آیا ہے۔ اس سلسلے میں پروفیسر محمد نجات اللہ صدیقیؒ کی خدمات بہت اہم ہیں۔ اس کتاب کی اہمیت یہ ہے کہ اسلامک فائنانس سے متعلق گزشتہ نصف صدی میں جو بحثیں ہوتی رہی ہیں ان کا خلاصہ اس میں پیش کیا گیا ہے۔ اس میں اسلامک فائنانس کے عملی مسائل کو زیر بحث لایا گیا ہے اور اسے نصابی ضرورت کی تکمیل کے لیے تیار کیا گیا ہے، اسی لیے ہر باب کے آخر میں سوالات درج کیے گئے ہیں“۔
اس موقع پرمصنف کتاب نے اسلامک فائنانس کے میدان میں اپنے سفر کا تعارف کرایا۔ ان کا تعلق مغربی بنگال سے ہے۔ وہ سِوِل سروس میں انڈمان میں پوسٹڈ تھے، لیکن انھوں نے سرکاری ملازمت ترک کرکے اسلامک فائنانس میں اعلیٰ تعلیم و تحقیق کا ارادہ کیا۔ مولانا سید سید ابو الحسن علی ندوی سے ملاقات کی تو انھوں نے ان کی دلچسپی دیکھ کر پروفیسر نجات اللہ صدیقیؒ سے ملاقات کا مشورہ دیا اور ان کے نام خط بھی لکھ کر دیا۔ اس طرح پروفیسر صدیقی سے ان کے روابط استوار ہوئے۔ انھوں نے علی گڑھ کا سفر کیا تو وہاں ڈاکٹر فضل الرحمٰن فریدی، ڈاکٹر عبد العظیم اصلاحی اور دوسرے ماہرینِ اسلامی معاشیات سے ملاقات ہوئی۔ برطانیہ جانے کے بعد پروفیسر خورشید احمد اور ڈاکٹر محمد عمر چھاپرا سے بھی ان کے خصوصی تعلقات قائم ہوئے۔ انھوں نے بتایا کہ ان دنوں برطانیہ کی 12 یونیورسٹیز میں اسلامک فائنانس کا سبجیکٹ زیرِ تدریس و تحقیق ہے“۔چونکہ کتاب کا مقصد ہے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو فائدہ پہنچانا۔ لہٰذا کم سے کم قیمت رکھی گئی ہے۔ کل صفحات: 432 ہیں جن کی قیمت: 400 روپے۔مجلد: 550 روپے ہے۔