اے ایم یو طلباکا یونین کی بحالی کو لیکر دھرنا شروع

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 14th Jan.

علی گڑھ، 14 جنوری:علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں طلبایونین انتخابات کا مطالبہ اب زور پکڑنے لگا ہے جہاں پہلے طلباء￿ نے عرضداشت دیکر 24 گھنٹہ میں اعلان کا شیڈول جاری کرنے کا مطالبہ کیا تھا وہیں اب مدت پوری کے بعد اے ایم یو کے باب سیدکو بند کرکے دھرنا شروع کردیا گیا ہے طلبا کا کہنا ہے کہ جب تک یونیورسٹی انتظامیہ یونین انتخابات کیلئے شیڈول جاری نہیں کریگی تب تک یہ دھرنا جاری رہے گا۔تفصیلات کے مطابق اے ایم یو طلبا،یونین کے انتخابات کے مطالبہ کو لیکر باب سید پردھرنے پر بیٹھ گئے ہیں۔طلبہ نے باب سید کو بندکر دیا ہے۔اس دوران طلبااور یونیورسٹی انتظامیہ کے درمیان تیکھی نوک جھونک بھی ہوئی۔ واضح رہے کہ طلبہ برادری نے جمعرات کو انتظامیہ کو عرضداشت دیکر مطالبہ کیا تھا کہ اگر 24گھنٹے میں انتخابات کا اعلان نہ کیا تو وہ باب سید پر دھرنا شروع کر دیں گے۔ طلبالیڈران وکاس یادو، تسلیم رضا، شاد احمد حمزہ جمشید اور دیگر طلباء￿ باب سید پرپہنچے، طلبا نے جب باب سید کو بند کی کوشش کی تو اس درمیان اے ایم یو انتظامیہ سے ان کی تیکھی نوک چھونک ہو ئی۔ وہیں طلبہ کا کہنا ہے کہ جب تک الیکشن کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوتا، تب تک وہ دھرنے پر بیٹھے رہیں گے۔سخت سردی کے باوجود بھی طلبا باب سیدپر بیٹھ گئے طلبہ کادھرنا آج خبر لکنے جانے تک بھی جاری تھا۔غورطلب ہے کہ 2018 کے بعد سے اے ایم یو میں طلباء￿ یونین کے انتخابات نہیں ہوسکے ہیں پہلے سی اے این آر سی تحریک اور پھر بعد میں کورونا وبا کے چلتے یہ ممکن نہیں ہوسکا ایک سال قبل آواز اْٹھی کو کیمپس میں طلباء￿ کی عدم موجودگی اور طلباء￿ کی آن لائن کلاسس کی بات انتظامیہ نے کہی تھی لیکن اس سال سیشن شروع ہوتے ہی کیمپس میں پہلے ایڈہاک یونین کی بات اْٹھی تو کچھ طلباء￿ نے اسکی مخالفت کی اب دوبارہ سے طلباء￿ کی تحریک نے دم پڑکا ہے اور مطالبہ تیز ہوا ہے کہ جلد از جلد الیکشن کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔طلباء￿ کا کہنا ہے کہ یہ سمجھ نہیں آرہا ہے کہ اے ایم یو انتظامیہ طلبا یونین کا انتخاب کرانے میں پیچھے کیوں ہٹ رہی ہے،اتنظامیہ کی کاکرردگی پر بھی سوالیہ نشان لگ رہے ہیں اور پوری دنیا میں یہ پیغام جا رہا ہے کہ اے ایم یو میں سب کچھ ٹھی ٹھا ک نہیں چل رہا ہے۔ اس سلسلے میں اے ایم یو کے انتظامیہ کا یہ کہناہے کہ فی الحال انتخابات نہیں ہو سکتے، کیونکہ تعلیمی سیشن کووقت پر ختم کرنا ہے اور پی ایچ ڈی کے داخلہ ابھی باقی ہیں یاں یہ بھی یاد دلادیں کہ سابقہ سال بھی جب انتخاب کا مطالبہ کیا گیا تھا تب ہی انتظامیہ نے پی ایچ ڈی کے داخلوں کی بات کہہ کر ہی الیکشن کو التوا میں ڈال دیا تھا۔