تقسیم ہند کے سخت خلاف تھے۔ مجاہد آزادی عبدالقیوم انصاری

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 18th Jan.

قانون ساز کونسل کے آڈیٹوریم میں 50ویں برسی پر یادگاری تقریب کا انعقاد

پٹنہ 18 جنوری 2023: عظیم مجاہد آزادی اور بہار کے سابق وزیر عبدالقیوم انصاری ہندوستان کی تقسیم اور قیام پاکستان کے سخت خلاف تھے۔ انہوں نے محمد علی جناح کے دو قومی نظریہ کی سخت مخالفت کی۔ انہوں نے مسلمانوں بالخصوص پسماندہ طبقات کی ترقی کے لیے اپنی آخری سانس تک کام کیا۔
مقررین نے یہ باتیں عظیم مجاہد آزادی عبدالقیوم انصاری کی 50ویں برسی کے موقع پر بہار قانون ساز کونسل آڈیٹوریم میں کہیں۔ تقریب کی صدارت سابق وزیر خالد انور انصاری نے کی۔
سابق مرکزی وزیر مملکت سنجے پاسوان نے کہا کہ دلت اور مسلم اتحاد وقت کی ضرورت ہے۔ عبدالقیوم انصاری نے اپنی ذمہ داریاں نہایت احسن طریقے سے نبھائیں اور ہر کمیونٹی کی ترقی کے لیے زندگی بھر کوشش کی۔اس موقع پر بہار قانون ساز کونسل کے سابق ورکنگ چیئرمین اور جنتا دل کے اقلیتی سیل کے صدر سلیم پرویز نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ عبدالقیوم انصاری نے کیا کیا۔ میں پوچھتا ہوں کہ لوگوں نے عبدالقیوم انصاری کے لیے کیا کیا؟
سلیم پرویز نے کہا کہ انہوں نے قوم کے لیے بہت کچھ کیا ہے۔ جیل کے وزیر کی حیثیت سے انہوں نے مظفر پور جیل میں قیدیوں کی تعلیم کا انتظام کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس موقع پر میں وزیر اعلیٰ نتیش کمار سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ بہار کی تمام جیلوں میں قیدیوں کی تعلیم کا انتظام کریں تاکہ اگر لوگ کسی وجہ سے جیل جائیں تو وہ پڑھے لکھے باہر آئیں اور مستقبل میں دوبارہ جرائم نہ کریں۔
اس موقع پر گورنمنٹ اردو لائبریری کے چیرمین ارشد فیروز نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عبد القیوم انصاری ایک شخص نہیں بلکہ ایک تحریک کا نام ہے۔انصاری صاحب صرف مومنوں کے رہنما نہیں تھے بلکہ سبھی غریب، پچھڑوں، مسلمانوں اور ہندوئوں کے عظیم رہنما تھے جو لگ انہیں کسی خاص طبقہ سے جوڑ کر دیھکتے ہیں وہ وہ تنگ نظری کا ثبوت پیش کرتے ہیں۔ جلیانوالہ کانڈ کے بعد وہگاندھی جی کے ساتھ سرگرم سیاست میں ا?ئے۔ سرکاری اسکولوں کے بائیکاٹ کے بعد انہوں نیشنل اسکول کو قائم کیا۔ 1947 میں جموں و کشمیردراندازوں کے خلاف عام مسلمانوں کو تیار کرکے اس چنوتی کے خلاف تیار کیا۔ انہوں نے 1957 ء میں انڈین مسلم یوتھ کشمیر فرنٹ کا بھی قیام کیا۔ .

اس موقع پر قانون ساز کونسل کے رکن پرمود کمار، بہار اسٹیٹ مومن کانفرنس کے صدر تنویر انصاری، مولانا مظہر الحق یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر عبدالقدوس انصاری، عبد القیوم انصاری کی پوتیاں حنا یاسمین انصاری ، فریاس انصاری اعجاز عادل، ویشالی، گرو پرشاد، اسیر الدین شاہ، نور حسن ا?زاد، اقبال انصاری ، تراب نیازی، گلفشاں جبیں? عرف سگن وغیرہ نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر شاعرہ نکہت ارا، شمع کوثر شمع، ڈاکٹر نعیم صبا، اعجاز عادل نے انہیں منظوم خراج عقیدت پیش کیا۔ بہار اردو اکادمی کے سابق سکریٹری شہزاد انور انصاری، شاہد انصاری، ڈاکٹر سید صبٰیح الدین، رضا عالم دانش، لیاقت حسین منصوری، شعبان خان، ضیاء الحسن ، ساجد پرویز، عارف اقبال، کے علاوہ ا?ڈیٹوریم میں لوگ کھچا کھچ موجود تھے۔ اور بہت سے علماء￿ کرام اور سیاست دانوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور مرحوم عبدالقیوم انصاری کے کارناموں کو یاد کیا۔شادماں حسن نے پروگرام کی شاندار نظامت کی اس موقع پر عبدالقیوم انصاری پر لکھے گئے سووینئر کا اجرا بھی کیا گیا۔