حجاب تنازعہ کا منفی اثر، مسلم طلبہ سرکاری کالجوں سے منتقل

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 11th Jan.

بنگلورو،11 جنوری: حکومت کرناٹک کی جانب سے تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کے بعد بہت سے مسلمان طلباء بھی اپنی کمیونٹی کی اسٹوڈنٹس سے اظہار یگانگت کے طور پر سرکاری کالجوں سے پرائیوٹ کالجوں کو منتقل ہوگئے ہیں۔ ایک موقر روزنامہ کے ذریعہ حاصل کردہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ تعلیمی سال 2021-22 ء کے دوران جملہ 1296 لڑکوں نے کلاس XI (جسے کرناٹک میں پری یونیورسٹی کالج یا پی یو سی بھی کہا جاتا ہے) میں داخلہ لیا۔ 2022-23 ء میں یہ تعداد 1,320 درج ہوئی۔ تاہم سرکاری کالجوں میں 2021-222 ء میں 388 مسلم طالبات نے کلاس XI میں داخلہ لیا تھا اور یہ تعداد 2022-23 ء میں گھٹ کر 186 ہوگئی ہے۔ تحقیق کے مطابق اِس تعلیمی سال صرف 91 مسلم لڑکیوں نے سرکاری کالجوں میں داخلہ لیا جبکہ 2021-22 ء میں یہ تعداد 178 تھی۔ سرکاری کالجوں میں داخلہ لینے والے مسلم لڑکوں کی تعداد 210 سے گھٹ کر 100 رہ گئی ہے۔ اِس کے برعکس ضلع کے خانگی (یا غیر امدادی) پری یونیورسٹی کالجوں میں مسلم طلباء کے اندراج میں اضافہ ہوا ہے۔ 927 مسلم طلباء نے پی یو سی ایل میں 2022-23 ء میں غیر امدادی کالجوں میں داخلہ لیا جبکہ 2021-22 ء میں یہ تعداد 662 تھی۔ مسلم لڑکوں کے داخلہ 334 سے بڑھ کر 440 اور مسلم لڑکیوں کے داخلہ 328 سے بڑھ کر 487 ہوگئے ہیں۔ ضلع اڈوپی صالحیت پی یو کالج اِس رجحان کی ایک مثال ہے۔ 2021-22 ء میں پی یو سی آئی یا کلاس XI میں 30 مسلم لڑکیاں زیرتعلیم تھیں جو 2022-23 ء میں بڑھ کر 57 ہوگئی ہے۔ صالحیت گروپ آف ایجوکیشن کے اڈمنسٹریٹر اسلم ہیکاڈی نے بتایا کہ اُن کے پی یو کالج میں مسلم لڑکیوں کا داخلہ پہلی بار تقریباً دوگنا ہوگیا ہے۔یہ اِس بات کا ثبوت ہے کہ حجاب کے مسئلہ نے حقیقت میں مسلم طالبات پر ذاتی اور علمی طور پر کس طرح اثر ڈالا ہے۔ ریاست کے کئی دیگر اضلاع کے پرائیوٹ کالجوں سے بھی اِسی طرح کے رجحان کی اطلاع ہے۔