Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 16th Jan.
کھٹھمنڈو، 16 جنوری :30 برسوں میں ہمالیائی ملک کے سب سے خطرناک حادثے کے بعد تلاشی اور امدادی کارروائی جاری ہے۔ یتی ایئرلائنز کے ترجمان سدرشن بارتولا نے بتایا کہ حادثے کا شکار طیارے سے بلیکس باکس۔ایک کاک پٹ وائس ریکارڈر اور فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر حادثے کے مقام سے ملا ہے اور اسے نیپال کی شہری ہوابازی کی اتھارٹی (سی اے اے این) کے حوالہ کردیا گیا ہے۔ اس طیارے میں 68 مسافر اور چار فضائی عملہ تھا اور ابھی تک 68 لاشیں جائے واردات سے برآمد کی گئی جبکہ آج بھی ہیلی کاپٹروں کے ذریعہ باقی چار افراد کی تلاش جاری ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کے بچنے کے امکانات بہت کم نظر آرہے ہیں چونکہ 24 گھنٹے سے بھی زیادہ وقت گزر گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاشوں کا پوسٹ مارٹم کرانے کی تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور جلد ہی کارروائی شروع کر دی جائے گی۔افسر نے بتایا کہ کھٹمنڈو کے تریبھون یونیورسٹی ٹیچنگ ہسپتال سے ایک طبی ٹیم کو ہوائی جہاز سے روانہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جیسے ہی وہ پوکھرا پہنچیں گے، پوکھرا کے ویسٹرن ریجنل ہسپتال میں پوسٹ مارٹم شروع ہو جائے گا۔یہ طیارہ کھٹمنڈو سے پوکھرا کے لیے روانہ ہوا تھا جس میں 57 نیپالی، پانچ ہندوستانی، چار روسی، دو جنوبی کوریائی، اور ارجنٹینا، آئرلینڈ، آسٹریلیا اور فرانس سے ایک ایک شخص سوار تھے۔پوکھرا پولیس اہلکار اجے کے سی نے کہا کہ تلاش اور بچاؤ آپریشن، جو اتوار کو اندھیرے کی وجہ سے روک دیا گیا تھا، دوبارہ شروع ہو گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ہم پانچ لاشوں کو گھاٹی سے نکال لئے ہیں اور باقی چار کی تلاش کریں گے جو ابھی تک لاپتہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ دیگر 63 لاشوں کو ہسپتال بھیج دیا گیا ہے۔نیپال نے پیر کو قومی سوگ کا اعلان کیا ہے اور اس آفت کی تحقیقات کے لیے ایک پینل تشکیل دیا ہے اور مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کے لیے اقدامات تجویز کیے ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ شناخت اور جانچ کے بعد لاشیں لواحقین کے حوالے کر دی جائیں گی۔نیپال میں 2000 سے لے کر اب تک ہوائی جہاز یا ہیلی کاپٹر کے حادثے میں تقریباً 350 افراد ہلاک ہوچکے ہیں – جہاں ایورسٹ سمیت دنیا کے 14 بلند ترین پہاڑوں میں سے آٹھ کا گھر ہے – جہاں موسم کی اچانک تبدیلیاں خطرناک حالات کا باعث بن سکتی ہیں۔