مسلم تحفظات کو گھٹانے کی سازشوں پر مسلم قائدین ‘ تنظیموں و جماعتوں کی بے حسی

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 13th Jan.

حیدرآباد، 13جنوری:مسلم سیاسی مذہبی سماجی قائدین و عمائدین ملت کی خاموشی اور ملت اسلامیہ کے اہم مسئلہ تحفظات سے بے اعتنائی کے سبب آئندہ چند ماہ کے دوران ریاست میں ہونے والے تقررات کے عمل میں سینکڑوں مسلم نوجوانوں کا نقصان ہوگا اورتقررات کا عمل مکمل ہونے کے بعد امت مسلمہ کے پاس سوائے ناانصافی کے ماتم کوئی شئے باقی نہیں رہ جائے گی۔ ریاستی حکومت کی جانب سے مختلف محکمہ جات میں تقررات کیلئے اعلامیہ جاری کئے جا رہے ہیں اور ان میں بی سی(ای) زمرہ سے ناانصافیوں کی نشاندہی کے باوجود ملت کیلئے کسی گوشہ سے آواز نہ اٹھائے جانے کے سبب ایسا محسوس ہورہا ہے کہ خو د مسلم نوجوانوں کو بھی اپنے مستقبل کی فکر نہیں رہی اور نہ وہ سرکاری ملازمتوں میں ملنے والے حصہ کے لئے جدوجہد کرنے پرآمادہ ہیں۔ تشکیل تلنگانہ کے بعد مسلم تحفظات کو تمل ناڈو طرز پر 12فیصد کرنے کے اعلانات کے سبب یہ سمجھا جا رہا تھا کے چندر شیکھر راؤ اقتدار پانے کے بعد مسلمانوں سے وعدہ کو پورا کریں گے لیکن اقتدار پانے کے بعد نہ صرف اس وعدہ کو فراموش کیا گیا بلکہ متحدہ آندھرا پردیش میں جو 4فیصد تحفظات فراہم تھے ان میں بھی گمراہ کن انداز میں تخفیف کی جاچکی ہے اور اس سلسلہ میں استفسار پر عہدیدارو ںکی جانب سے مختلف دعوے کئے جا رہے ہیں لیکن کوئی عہدیدار وثوق کے ساتھ یہ کہنے تیار نہیں ہے کہ کیونکر بی سی(ای) زمرہ کے تحفظات میں تخفیف کی جا رہی ہے! محکمہ بی سی ویلفیر کے حکام کا کہنا ہے کہ بی سی (اے) بی سی (بی) بی سی(سی) اور بی سی (ڈی) زمرہ کی کوئی شکایات نہیں ہیں لیکن بی سی (ای) زمرہ میں تحفظات پر موثر عمل نہ کئے جانے کی شکایات مل رہی ہیں۔ گروپII اعلامیہ میں مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی کی نشاندہی کے باوجود حکومت کی خاموشی سے زیادہ سیاسی ‘ مذہبی اور سماجی قیادت اور امت مسلمہ کے نام پر چندہ وصول کرنے والی تنظیموں کی خاموشی افسوسناک ہے۔ گذشتہ دنوں نظام آباد میں اے این ایم کے عہدوں پر بی سی (ای) زمرہ میں مسلمانوں سے ناانصافی کی نشاندہی کے دوسرے ہی دن نظام آباد کے غیور مسلمانوں اور مسلم تنظیموں کی جانب سے ضلع کلکٹر سے نمائندگی کرکے غلطی کی نشاندہی کی گئی جس پر ضلع انتظامیہ کی جانب سے فوری غلطی سدھارنے اقدامات شروع کردیئے گئے لیکن ریاستی سطح پر جو ناانصافی ہورہی ہے اور مسلمانوں کو تحفظات کے نام پر دھوکہ دیا جا رہاہے اس پر خاموشی کے نتیجہ میں عہدیداروں کی حوصلہ افزائی ہونے لگی ہے اور عہدیدار من مانی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ تلنگانہ میں جاری اعلامیہ میں 4فیصد تحفظات کے مطابق بی سی (ای) کیلئے محفوظ نشستیں نہ ہونے پر توجہ دلائی جا رہی ہے لیکن اس پر مختلف طریقوں سے بہانے بناکر محفوظ اعداد و شمار کو عہدیداروں کی جانب سے درست قرار دیئے جانے کی کوشش کی جار ہی ہے اورجو دلائل پیش کئے جا رہے ہیں ان میں یہ دعویٰ کیا جار ہاہے روسٹر کے مطابق کئے جا رہے ہیں لیکن کوئی عہدیدار نشاندہی کیلئے آمادہ نہیں ہے کہ روسٹر کہاں سے شروع کیا جا رہاہے اسی طرح بعض شاطر عہدیدارو ںکی جانب سے زونل سطح کی جائیدادوں اور ملٹی زون کی نشاندہی کی وجہ سے 4 فیصد تحفظات میں کمی آ رہی ہے۔ اسی طرح بعض دیگر محکمہ جات کے عہدیداروں کا کہناہے کہ ریاست میں تیار روسٹر میں بی سی (ای) زمرہ کو نچلی سطح پر رکھے جانے کی وجہ سے یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے لیکن حکومت سے کوئی جواب دینے تیار نہیں ہے اور نہ ہی حکومت کے پاس ان غلطیوں کا کوئی جواب ہے لیکن حکومت کو اطمینان کی بنیادی وجہ امت مسلمہ کی جانب سے اتنی بڑی ناانصافی کے باوجود کسی قسم کا استفسار نہ کرنا اور مکمل خاموشی ہے۔ذرائع کے مطابق سرکاری گوشوں میں کہا جا رہا ہے کہ جب مسلم قائدین ونمائندے ہی خاموش ہیں اور کسی گوشہ سے کوئی استفسار نہیں کیا جا رہاہے تو کیوں حکومت سے جواب دیا جائے۔ صحافت میں جو سوال اٹھائے جانے چاہئے ان کو اٹھایا جا رہاہے اور عوام میں شعور بیدار کرنے کی کوشش کی جار ہی ہے لیکن مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے اگر مسلمان ہی خاموشی اختیار کرتے ہیں تو حکومتیں ان معاملات کو نظر انداز کرکے انہیں نقصان پر خاموش رہیں گی۔ مسلم تحفظات پر مو?ثر عمل نہ ہونے سے جو نقصان ہورہا ہے اس پر اگر بروقت نمائندگی نہیں کی جاتی ہے تو نقصان کی پابجائی ناممکن ہوگی۔