Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 12th Jan.
لاہور،12جنوری:پاکستان کی پنجاب الیکشن اسمبلی میں کل ڈرامائی سین نظر آئے۔ جب وزیراعلیٰ پنجاب میں رات کے اندھیرے میں اعتماد کا ووٹ حاصل کیا۔ اور یہ دعویٰ کیا کہ انہوں نے 186حاصل کئے۔ کل لاہور ہائی کورٹ نے وزیراعلیٰ کو صاف الفاظوں میں کہا تھا کہ انہیں گورنر کے حکم کے مطابق اعتماد کا ووٹ لینا ہی پڑے گا۔ اور اس کے فوراً بعد پرویز الٰہی اور اس کی اتحادی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے اپنے ممبران اسمبلی کو ہدایت دی کہ وہ اسمبلی میں حاضر رہیں۔ جبکہ مسلم لیگ پیپلز کانفرنس اور دوسرے ممبران نے اس اجلاس کا بائیکاٹ کیاموقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسپیکر سبطین خان نے اعتماد کا ووٹ کی کارروائی شروع کی اور اس قرار داد کے حق میں186ووٹ ڈالے گئے۔ اسپیکٹر نے رات کے 12بجے نیاسیشن شروع کیا اور ایجنڈا بھی جاری کیا انہوں نے میاں اسلم اقبال اور راجہ بشارت کی طرف سے قرار داد کو منظور کرتے ہوئے اعتماد کا ووٹ لینے پر رائے شماری کا حکم دیا۔ اس پر وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اعتماد کے ووٹ میں جو جلد بازی دکھائی گئی وہ سراسر اسمبلی کے ضابطوں کے خلاف ہے۔ اور آئین کے تقاضوں کو بھی پورانہیں کیاانہوں نے کہا کہ اس غیر آئینی عمل کو ہم تسلیم نہیں کریںگے۔آج اس سلسلے میں لاہور ہائی کورٹ میں کارروائی بھی شروع ہوئی۔ جہاں اعتماد کے ووٹ کے سلسلے میں دونوں فریق نے اپنا اپنا موقف پیش کیا۔لیکن لاہورہائی کورٹ نے کہا وزیراعلیٰ کے اعتماد کا ووٹ قانون کے مطابق ہوا اور گورنر پنجاب نے نوٹیفکیشن کا حکم واپس لیا ہے۔ ہائی کورٹ کے جج عزیز شیخ نے کہا کہ گورنر اعتماد کے ووٹ سے مطمئن ہے۔