Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 10th Feb
ریاست جھارکھنڈ میں حکمران عظیم اتحاد کا حصہ آل انڈیا کانگریس پارٹی، اب جھارکھنڈ میں خود اپنی سیاسی زمین کو مضبوط کرنے کی کوشش میں لگی ہے۔ اسی سلسلے میں پارٹی کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے آج جھارکھنڈ کے سنتھال پرگنہ کے دورے پر آ رہے ہیں۔ جھارکھنڈ کے صاحب گنج ضلع کےبڑہروا سے وہ ’’ہاتھ سے ہاتھ جوڑو ‘‘ مہم شروع کریں گے۔اس مہم کو کامیاب بنانے کے لئے پارٹی کی ریاستی کمیٹی نے تمام ضروری تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔
کانگریس کے قومی ترجمان پرنو جھا کا کہنا ہے کہ کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھرگے 11 فروری کو سنتھال پرگنہ کے دورے پر جارہے ہیں۔ گزشتہ 26 جنوری سے کئی ریاستوں میں’’ہاتھ سے ہاتھ جوڑو‘‘ مہم شروع ہوئی ہے۔ لیکن جھارکھنڈ میں یہ مہم 11 فروری سے سنتھال پرگنہ کے بڑہروا سے شروع کی جائے گی۔ پارٹی کے قومی صدر 11 فروری کو صبح 10 بجے چارٹر ہوائی جہاز سے دمکا ہوائی اڈے پر پہنچیں گے۔ وہاں سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے صاحب گنج کے برہڑوا کے لیے روانہ ہوں گے۔ جہاں سے وہ اس مہم کا آغاز کریں گے۔اس مہم کامقصد پارٹی کارکن کے ذریعہ راہل گاندھی کے پیغام کو ہر گھر تک پہنچانا ہے۔ کانگریس پارٹی کی پالیسیوں اور اصولوں کو عوام تک لے کر جانا ہے۔ کانگریس کا دعویٰ ہے کہ’’ بھارت جوڑویاترا‘‘ جو کہ حال ہی میں کانگریس کے سابق صدر اور پارٹی کے سینئر لیڈر راہل گاندھی کی قیادت میں ختم ہوئی ہے، امید سے زیادہ کامیاب رہی ہے۔ اس یاترا کے ذریعہ کانگریس نے ملک بھر کے لوگوں کو باہم جوڑنے اور نفرت کے بازار میں محبت کی دکانیں کھولنے کا کام کیا ہے۔ اس کامیاب مہم کے بعد سے کانگریس کے عام کارکنان میں بے پناہ جوش و خروش ہے۔ اب پارٹی کے فیصلے کے مطابق’ ’ہاتھ سے ہاتھ جوڑو‘ ‘کی نئی مہم شروع ہوئی ہے ۔یہ مہم گھر گھر پہنچے ، اس کے لئے کانگریس کا ایک ایک فرد پوری دیانتداری کے ساتھ کام کر رہا ہے۔
کانگریس کا کہنا ہے کہ عام طور پر پارٹی کے تمام پروگرام دارالحکومت سے شروع ہوتے ہیں۔ دمکا ریاست کا ذیلی دارالحکومت ہے۔ یہاں سے ہم پوری ریاست اور ملک میں پہنچیں گے۔ جہاں تک بڑہروا کا تعلق ہے،یہ جھارکھنڈ قانون ساز اسمبلی میں پارٹی کی قانون ساز پارٹی کے رہنما اور ریاستی وزیر عالمگیر عالم کا حلقہ ہے۔ کانگریس کا الزام ہے کہ آج پورے ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری سے تمام طبقات کے لوگ پریشان ہیں۔ مذہبی منافرت نے سماجی زندگی کو تباہ کر دیا ہے۔ لوگوں کی آمدنی کم ہو رہی ہے۔جب راہل گاندھی ان مسائل پر پارلیمنٹ میں سوال اٹھاتے ہیں تو مرکز کی بی جے پی زیرقیادت این ڈی اے حکومت کے پاس ان کا کوئی جواب نہیں ہے۔ ایوان میں اپوزیشن کی آواز کو دبایا جا رہا ہے۔ کانگریس اس کا جواب دے گی۔
واضح ہو کہ سنتھال پرگنہ کو قبائلیوں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ یہاں 7 سیٹیںایس سی اور ایس ٹی کے لیے مخصوص ہیں۔ سنتھال پرگنہ میں جو پارٹی جیت جاتی ہے، اکثر ریاست جھارکھنڈ کی طاقت بھی اسی کے ہاتھ میں رہتی ہے۔ کانگریس بھی اپنی ٹھوس زمین سنتھال میں ہی تلاش کر رہی ہے۔ کیونکہ اسمبلی میں اس کی نشستیں 2 سے بڑھ کر اب 4 ہو گئی ہیں۔ سنتھال کے بارے میں بی جے پی ہمیشہ یہ شوشہ چھوڑتی رہتی ہے کہ یہاں بڑی تعداد میں مسلمان بنگلہ دیش سے آکر بس گئے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ بی جے پی کو اسی شوشہ بازی کا جواب دینے کی غرض سے کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے نے آج سنتھال پرگنہ سے اپنی مہم کا آغاز کرنے کامنصوبہ بنایا ہے۔ایسا کرکے کانگریس مسلمانوں کے درمیان اپنی پوزیشن کو مضبوط بنانا چاہتی ہے۔
قابل کر ہے کہ آج سے پہلے جے ایم ایم نےدمکا میں 2 فروری کو یوم تاسیس منا کر انتخابی بگل بجایا تھا۔ جے ایم ایم نے یوم تاسیس کے بہانے نہ صرف اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا بلکہ بعض قراردادوں کو منظور کرکے کچھ واضح اشارے بھی دئے۔ اس دن جے ایم ایم نے مسلمانوں کو قبائلی باشندوں کے ساتھ سیاسی تال میل قائم کرنے کا عندیہ دیا تھا۔ یوم تاسیس کی تقریب میں جے ایم ایم کی طرف سے کل 47 قراردادیں منظور کی تھیں، جن میں سی اے اے اور این آر سی کو مسترد کرنا بھی شامل ہے۔ مسلم طبقہ سی اے اے اور این آر سی کی مخالفت روز اول سے ہی کرتا آرہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کی تشکیل اور ریاست میں سرکاری تعاون سے چل رہے مدارس میں بڑے پیمانے پر تقرری کی تجاویز بھی پاس کی گئی ہیں۔ یعنی جے ایم ایم مسلم طبقہ کو اپنے ساتھ لے جانا چاتا ہے۔مگر کانگریس جے ایم ایم کے مقاصد سے آگے بڑھ کر نہ صرف جھارکھنڈ بلکہ پورے ملک میں جاری منافرت کا منھ توڑ جواب تیار کرنے کے لئے جھارکھنڈ کی زمین کو اپنے لئے مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
***********************

