اسرائیل میں نام نہاد عدالتی اصلاحات کے خلاف عوامی احتجاج آٹھویں ہفتے میں جاری

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 26th Feb

تل ابیب ،26فروری : ہزاروں اسرائیلیوں نے ہفتے کو تل ابیب کی سڑکوں پر مسلسل آٹھویں ہفتیحکومت کی طرف سے متنازع عدالتی اصلاحات کے مظاہرہ کیا۔اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھوعدالتی اختیارات اور ججوں کے اختیارات کو محدود کرنے کے لیے ایک ترمیم لانے کی کوشش کررہے ہیں جب کہ اسرائیل میں عوامی حلقوں میں اس ترمیم کو جمہوری اقدار اورعدالتی آزادیوں پرحملہ قرار دیتیہیں۔نتین یاھو کی طرف سے لائے گئے عدالتی اصلاحات سے متعلق ترمیمی بل پرمنگل کے روز پہلی رائے شماری کی گئی۔ پہلی شق سپریم کورٹ کو بنیادی قوانین میں کسی بھی ترمیم کو منسوخ کرنے کے لیے نااہل قرار دیتی ہے جسے اسرائیل کے آئین کے برابر سمجھا جاتا ہے۔دوسرے آرٹیکل میں “استثنیٰ” کی شق شامل کی گئی ہے جو پارلیمنٹ کو سپریم کورٹ کے کچھ فیصلوں کو پارلیمنٹ کے 120 ارکان میں سے 61 ووٹوں کی سادہ اکثریت سے کالعدم کرنے کی اجازت دیتی ہے۔تل ابیب میں مظاہرین نے اسرائیلی پرچم اٹھائے “جمہوریت، جمہوریت” اور “ہم ہتھیار نہیں ڈالیں گے” کے نعرے لگائے۔نیتن یاہو کی قیادت میں دسمبر2022ء￿ میں قائم ہونے والی مخلوط حکومت میں دائیں بازوکے گروپ اور انتہا پسند مذہبی جماعتیں شامل ہیں۔ اس حکومت نے جنوری کے شروع میں عدالتی نظام میں ترامیم اور اصلاحات کے مسودے کا اعلان کیا تھا۔اس منصوبے کے مخالفین کا خیال تھا کہ اس کا مقصد سیاسی اتھارٹی کے حق میں عدالتی اختیار کو کمزور کرنا ہے۔ انہوں خبردار کیا کہ یہ جمہوری نظام کے لیے خطرہ ہے۔تاہم نیتن یاہو اور وزیر انصاف یاریو لیون کا خیال ہے کہ عدالتی نظام میں ترمیم کرنا طاقت کی شاخوں میں توازن بحال کرنے کے لیے ایک ضروری قدم ہے کیونکہ وزیر اعظم اور ان کے اتحادی سپریم کورٹ کے ججوں کو سیاست زدہ سمجھتے ہیں اور منتخب ارکان کنیسٹ سے جج زیادہ اختیارات رکھتے ہیں۔منگل کے روزاقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر وولکر تورک نے اسرائیل سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ انسانی حقوق اور عدلیہ کی آزادی پر اثرات کے خوف سے عدالتی نظام میں ترمیم کے مسودے کو معطل کرے۔اب تک ایسا لگتا ہے کہ مظاہرے جو عام طور پر حکومت کی پالیسی کی مذمت کرتے ہیں، نیتن یاہو اور ان کی اکثریت کو اپنے مقصد سے نہیں روک سکیں گے۔یائرلپیڈ کی قیادت میں حزب اختلاف نے بارہا نیتن یاہو پر الزام لگایا ہے کہ وہ اس ترمیم کے ذریعے اپنے ذاتی مفادات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔بعض ناقدین ان ترامیم کو وزیر اعظم کے جاری بدعنوانی کے مقدمات کے ساتھ جوڑا اور کہا کہ انہوں نے انصاف کے نظام کو کمزور کرنے کی کوشش کی۔