Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 23rd Feb
جے پور، 23 فروری :راجستھان میں اپنی انتخابی زمین کی تلاش کر رہے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) پارٹی کے سربراہ اور حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی بھرت پور کے دو نوجوانوں کو جلائے جانے کے معاملے میں گہلوت حکومت اور ہریانہ حکومت سے مسلسل سوال کر رہے ہیں۔ تو وہیں انہوں نے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت کے بجائے سابق نائب وزیر اعلیٰ سچن پائلٹ کو نشانے پر لیا ہے ۔ 19 فروری کو پائلٹ کے حلقہ ٹونک میں انتخابی ریلی نکال کر سچن پائلٹ کو نشانہ بنانے والے اویسی اب لگاتار ٹویٹ کر سچن پائلٹ پر حملہ کر رہے ہیں۔ سچن پائلٹ کی جانب سے اسد الدین اویسی پر مذہب کی سیاست کرنے کا الزام لگانے کے بعد اویسی نے سچن پائلٹ پر جوابی حملہ کیا ہے۔ اویسی نے ایک کے بعد ایک ٹویٹ کرکے سچن پائلٹ کو نشانہ بنایا اور کہا کہ سچن پائلٹ وزیر اعلیٰ کی کرسی کے لیے مودی کے آشیرواد سے ہریانہ میں چھپنے گئے تھے۔ اویسی نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ پائلٹ صاحب، ہم ہمیشہ اصولی اور بنیادی طور پر بی جے پی کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ ہم کانگریس کی طرح نہیں ہیں جو پارلیمنٹ میں مودی حکومت کے قوانین کی حمایت کرتی ہے اور نہ ہی ہم صرف وزیر اعلیٰ کی کرسی کے لیے مودی کے آشیرواد سے ہریانہ میں چھپے تھے۔
انہوں نے لکھا کہ مجھے یو ٹرن کی عادت بالکل نہیں ہے۔ فکر نہ کرو، میں راجستھان آتا رہوں گا۔ ٹونک کے لوگ ان دنوں اپنے ایم ایل اے کو کیوں نہیں دیکھ پا رہے ہیں؟ جنید ناصر کا قتل انتخابی مسئلہ نہیں انصاف کا سوال ہے۔ ہم نے جنید ناصر کے قاتلوں کی حمایت میں مہاپنچایت تو دیکھی ہے، لیکن ہم نے ایک چھوٹا سا اجتماع بھی نہیں دیکھا جس میں اس قتل کی مذمت یا احتجاج کرتے ہوئے سماج کے نام پر گائے کی دہشت گردی کی جا رہی ہو۔ اس سے قبل 19 فروری کو ٹونک میں انتخابی جلسہ عام کے دوران اسدالدین اویسی نے سچن پائلٹ کو سخت نشانہ بنایا تھا اور کہا تھا کہ سچن پائلٹ اب ٹونک چھوڑ کر کہیں اور چلے جائیں کیونکہ ایم آئی ایم پارٹی ٹونک میں الیکشن لڑے گی اور اقلیتی لیڈر یہاں سے ہی الیکشن جیت کر پہنچے گا۔
اس کے بعد سچن پائلٹ نے سری گنگا نگر میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے اسد الدین اویسی اور پی ایم مودی کو بھی نشانہ بنایا۔ سچن پائلٹ نے کہا تھا کہ یہ انتخابی سال ہے، اسی لیے وزیر اعظم نریندر مودی دوسہ جا رہے ہیں اور اسد الدین اویسی ٹونک جا رہے ہیں۔ پی ایم مودی اور اویسی پر طنز کرتے ہوئے پائلٹ نے کہا تھا کہ یہ دونوں لیڈر 4 سال سے لاپتہ تھے اور اب جب الیکشن آچکے ہیں تو بڑی بڑی تقریریں کررہے ہیں، مذہب اوردھرم کی باتیں کررہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ الیکشن سے پہلے جس طرح سے دونوں رہنما نظر نہیں آرہے تھے۔ جب راجستھان میں انتخابات ختم ہوں گے تو اس کے بعد بھی دونوں لیڈر یہاں سے غائب ہو جائیں گے۔

