Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 11th Feb
کھونٹی، 11 فروری : بسنت کی آمد آمد ہے۔ ایک طرف جہاں جنگلات اور سڑکوں کے کنارے سرخ پلاش کے پھو ل اور سیمل کے پھول قدرتی حسن میں چار چاند لگا رہے ہیں وہیں دوسری طرف آم کی ٹہنیوں پر کھلتے آم کے پھول (بور) احساس دلا رہے ہیں کہ یہ آم کی بمپر پیداوار ہوگی۔ درختوں پر لدے آموں کے پھول کے مناظر دیکھ کر کسانوں کے چہرے بھی کھل اٹھے ہیں۔
آموں کی پیدا وارکرنے والے کسانوں کو یقین ہے کہ اس بار آم کی وافر فصل ہوگی۔ تورپا بلاک کے کاشتکار پھگوا سنگھ کا کہنا ہے کہ موسم سازگار ہے اور مارچ اپریل میں تھوڑی بارش ہوئی ہے، اس لیے آم کی پیداوار گزشتہ سال کے مقابلے بہتر ہوگی۔ وہ کہتے ہیں کہ موسم بہار کی تیز ہوا آندھی میں تبدیل ہو جائے گی تو آم کے بور گر جائیں گے ۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ لاہی اور مدھوا کی بیماری کی وبابھی ابھی سے نظر آنے لگی ہے۔
بیجو آم کے ساتھ، مالدہ، دسہری اور دیگر اقسام کے آم کھونٹی ضلع میں وافر مقدار میں پیدا ہوتے ہیں۔ کسانوں نے پہلے ہی کھیتوں میں دوا کا چھڑکاؤ شروع کر دیا ہے۔ برسا ہرت گرام اسکیم کے تحت ضلع انتظامیہ نے ضلع کے کھونٹی، تورپا، کررہ، رانیہ، مرہو اور اڑکی بلاکوں کے دیہی علاقوں میں چھ ہزار ایکڑ سے زیادہ کے رقبے پر آم کی باغبانی کی ہے۔
تورپا کے سنداری گاؤں کے ایک آم پیدا کرنے والے اور ضلع پریشد کے سابق رکن پریم جیت بھینگرا کا کہنا ہے کہ جھارکھنڈ کی آب و ہوا اور جغرافیائی حالات خاص طور پر ضلع کھونٹی آم کی فصل کے لیے کافی موزوں ہیں۔ پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے یہاں باغبانی کے بے پناہ امکانات ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کے کاشتکار آم، ڈریگن فروٹ، لیچی، امرود، اسٹرابیری اور خوشبودار پھولوں کے علاوہ لیمن گراس وغیرہ کی پیداوار میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ بھینگرا نے بتایا کہ آم کی فصل میں محنت اور لاگت کم ہونے کی وجہ سے کاشتکار اس کی کاشت کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔
تورپا کے 3600 کسان کر رہے ہیںآم کی باغبانی
ضلع میں کام کرنے والی ایک رضاکار تنظیم پردان کے افسر روی رنجن کمار کا کہنا ہے کہ یہاں کی مٹی نہ صرف آم بلکہ دیگر پھلوں اور پھولوں کی کاشت کے لیے کافی سازگار ہے۔ انہوں نے کہا کہ برسا ہریت گرام یوجنا کے تحت پچھلے چھ سالوں میں صرف تورپا بلاک میں بڑے پیمانے پر آم کی شجرکاری کی گئی ہے۔ تورپا ایک ایسا بلاک ہے، جس میں برسا ہرت گرام اسکیم کے تحت پورے جھارکھنڈ میں سب سے زیادہ عام باغبانی کی گئی ہے۔ 3600 کسان آم کی باغبانی سے وابستہ ہیں۔ تورپا میں امسال 5 سے 6 سو ایکڑ پر آم کی کاشت کی گئی ہے۔

