Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 26th Feb
نئی دہلی، 26 فروری : وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کو اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام کے ذریعے ٹیلی میڈیکل سروس فراہم کرنے والی ایپ ای۔ سنجیونی کا ذکر کیا۔ اسے ڈیجیٹل انڈیا کی طاقت بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ پہاڑی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے لیے لائف لائن ایپ بن رہی ہے۔
‘من کی بات’ کے 98 ویں ایڈیشن میں وزیر اعظم نے کہا کہ ای سنجیونی کے ذریعے صحت سے متعلق مشورے حاصل کرنے والوں کی تعداد 10 کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔ یہ ایپ کورونا کے دور میں ایک وردان ثابت ہوئی۔ اپنے ریڈیو پروگرام میں، انہوں نے ای سنجیونی ایپ کا استعمال کرتے ہوئے ڈاکٹروں اور مریضوں سے بات چیت کی اور یہدریافت کیا کہ ایپ کس طرح زندگیوں کو بدل رہی ہے۔ ڈیجیٹل انڈیا کی طاقت کا ذکر کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے حالیہ دنوں میں ہندوستان کے یوپی ای اور سنگاپور کے پیناو کی کراس بارڈر کنیکٹیویٹی ایپ کے بارے میں بھی بات کی۔ اس کے ذریعے دونوں ممالک کے لوگ اپنے درمیان سستے نرخوں پر آسانی سے رقم منتقل کر سکتے ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ معاشرے کے تعاون سے ملک کی طاقت میں اضافہ ہوتا ہے اور انہیں خوشی ہے کہ پروگرام کے ذریعے کی گئی عوامی شراکت دار ی کی اپیل میں لوگ بڑی تعداد میں حصہ لیا۔ کھیل، کھلونے اور اسٹوری ٹیلنگ سے متعلق ان کی اپیل میں ملک کے لوگوں نے حصہ لیا۔ سردار پٹیل کی جینتی پر انہوں نے گیت، لوری اور رنگولی مقابلے کا ذکر کیا تھا۔ اس دوران انہوں نے مقابلہ جیتنے والوں کے بارے میں معلومات فراہم کی اور لوگوں کو ان کے ٹیلنٹ سے بھی روبرو کیا۔ انہوں نے کہا، شہریوں نے ‘من کی بات’ کو عوامی شراکت داری کے اظہار کے طور پر ایک شاندار پلیٹ فارم بنا دیا ہے۔
وزیر اعظم نے سامعین کو استاد بسم اللہ خان یووا پرسکار ایوارڈ یافتہ افراد کی صلاحیتوں سے بھی آشنا کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے سورسنگار کے کھلاڑی جائے یدیپ، مینڈولن نواز اپلپو ناگمنی، وارکری کیرتن سنگرام سنگھ سوہاس بھنڈارے، کرکٹم ڈانسر وی درگا اور پیرینی اڈیشی کے منتظم راج کمار نائک کی صلاحیتوں کی تعریف کی۔
وزیراعظم نے ملک کے ثقافتی ورثے کو زندہ رکھنے کی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے مغربی بنگال کے ہوگلی ضلع کے بانسبیریا میں منعقدہ تربینی کمبھو کی مثال دی۔ انہوں نے بتایا کہ اس ‘مہوتشو’ کی روایت 700 سال بعد دوبارہ زندہ ہوئی ہے۔ اس کا آغاز دو سال قبل مقامی کوششوں سے ہوا تھا جس کا ذکر ادب اور تاریخی دستاویزات میں ملتا ہے۔ گزشتہ سال یہاں کمبھ میلہ بھی منعقد کیا گیا تھا۔
وزیر اعظم نے ایک بار پھر سوچھ بھارت میں تعاون کرنے والوں کے کام کی تعریف کی۔ انہوں نے ہریانہ کے بھیوانیمیں صفائی مہم چلانے والے نوجوانوں اور اڈیشہ کے کیندر پاڑاضلع کی کملا مہرانا کے سیلف ہلپ گروپ کے ذریعہ ‘ویسٹ ٹو ویلتھ’ کی کوششوں کی مثالیں پیش کیں۔انہوں نے پلاسٹک کی بجائے کپڑوں کے تھیلوں کو اپنانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس عزم ہمیں اطمینان ملے گا اور دوسروں کو ترغیب ملے گی۔ پروگرام کے اختتام پر، وزیر اعظم نے لوگوں کو ہولی کی مبارکباد دیتے ہوئے ان پر زور دیا کہ وہ ‘وکل فار لوکل’ کے منتر پر دیسی سامان خریدیں۔

