برطانوی عدالت نے شمیمہ بیگم کی شہریت منسوخ کرنے کی توثیق کر دی

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 23rd Feb

لندن،23فروری:نام نہاد شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ میں شامل ہونے کے لیے شام جانے والی نوجوان خاتون شمیمہ بیگم کی حکومت کی جانب سے اپنی برطانوی شہریت کی منسوخی کے خلاف اپیل مسترد کر دی گئی ہے جس کے بعد انھیں ملک واپس آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔اس سے قبل، عدالت نے اپنے متفقہ فیصلے میں کہا تھا کہ ان کی ملک میں واپس آنے کی درخواست مسترد ہونے سے ان کے حقوق پامال نہیں ہوئے۔خیال رہے کہ برطانوی وزیرِ داخلہ نے شمیمہ بیگم کو برطانوی شہریت سے محروم کر دیا تھا اور وہ اسی فیصلے کو قانونی طور پر چیلنج کرنے کے لیے برطانیہ واپس آنا چاہتی ہیں۔بدھ کو برطانوی عدلیہ نے شمیمہ بیگم کی شہریت منسوخ کرنے کی تصدیق کر دی، جو 2015 میں 15 سال کی عمر میں داعش میں شمولیت کے لیے شام گئی تھیں۔لندن نے قومی سلامتی کا حوالہ دیتے ہوئے 2019 میں نوجوان خاتون سے اس کی برطانوی شہریت چھین لی تھی۔ اس کی کم عمر ہونے کی وجہ سے عوام میں اس کے حوالے سے ہمدردی کے جذبات بھی پائے جاتے ہیں مگر23 سالہ شمیمہ برطانیہ نہیں لوٹ سکتیں۔ وہ اس وقت شام میں ایک مہاجر کیمپ میں ہیں۔شام میں خانہ جنگی کیدوران شمیمہ فروری 2019 میں شام میں ایک کیمپ میں رہائش اختیار کی۔ وہ اس وقت امید سے تھیں تاہم بچہ پیدا ہونیکے بعد فوت ہوگیا تھا۔ شمیمہ کے حوالے سے برطانوی حکومت کی پالیسی پر سخت تنقید بھی ہوتی رہی ہے۔نوجوان خاتون نے برطانیہ واپس آنے کی خواہش ظاہر کی لیکن لندن نے اس کی شہریت چھین لی۔ اس کے گھر والوں نے اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا۔سال 2020 کے آغاز میں خصوصی کمیٹی برائے امیگریشن اپیلز نے کہا کہ اس فیصلے سے شمیمہ بے وطن نہیں ہو گی کیونکہ وہ بنگلہ دیشی شہریت رکھنے والے والدین کے ہاں پیدا ہوئی تھی۔لیکن ڈھاکہ نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ اس نے اپنی قومیت کے لیے کبھی درخواست نہیں دی تھی۔