بہار اسمبلی میں 2.61 لاکھ 885 کروڑ کا بجٹ پیش، 10 لاکھ نوجوانوں کو روزگار دینے کا منصوبہ

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 28th Feb

پٹنہ ، 28 فروری: بہار قانون ساز اسمبلی میں منگل کے روز ریاستی حکومت کے وزیر خزانہ وجے چودھری نے مالی سال 2023-24 کے لیے 2.61 لاکھ 885 کروڑ کا بجٹ پیش کیا۔ اس میں روزگار، تعلیم، صحت اور زراعت کے شعبے پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔ بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ وجے کمار چودھری نے کہا کہ ریاست میں بی پی ایس سی کے ذریعے 49,000 خالی نشستیں پْر کی جائیں گی۔ 10 لاکھ نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کا منصوبہ ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ بہار کی ترقی کی شرح بہترین رہی ہے۔ ترقی کی شرح محدود وسائل کے ساتھ زیادہ ہے۔ بجٹ کا حجم ملک میں 14 ویں نمبر پر ہے اور بہار کی ترقی کی شرح 10.98 فیصد ہے۔ وجے چودھری نے کہا کہ بہار اب بھی ایک ترقی پذیر ریاست ہے۔ اس ریاست کو ترقی یافتہ بنانے کے لیے مرکز سے اضافی مدد کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ پولیس میں 75 ہزار 543 ا?سامیاں منظور کی گئی ہیں۔ اسکولوں میں 40506 ہیڈ ٹیچر کو بحال کیا جائے گا۔ 44193 سیکنڈری اور 89724 ہائر سیکنڈری اساتذہ کو بحال کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اساتذہ کی بھرتی جاری ہے، یہ بھی مئی تک مکمل ہو جائے گی۔ بہار اسٹاف سلیکشن کمیشن کے ذریعہ ریاست میں 2900 ا?سامیاں پیدا کی جائیں گی۔ ساتھ ہی کہا کہ کورونا دور کے بعد معاشی مضبوطی کا ثبوت یہ ہے کہ ہماری شرح نمو ملک میں تیسرے نمبر پر ہے۔ صرف دو ریاستیں بہت کم فاصلے پر ہم سے ا?گے ہیں۔ ہمیں مرکز سے خصوصی زمرہ کا درجہ ملنا چاہیے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ بہار کے بجٹ میں گذشتہ 10 سالوں میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔ ریاست بہار ترقی کی شرح کے لحاظ سے ملک میں مسلسل ترقی کر رہی ہے۔ ا?ج بہار تیسرے نمبر پر ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ اس بجٹ میں ناری شکتی یوجنا کے لیے 60 کروڑ روپے اور سائیکل اسکیم کے لیے 50 کروڑ روپے کی رقم دستیاب کرائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہار کے کل نو اضلاع میں نئے میڈیکل کالج کھولے جائیں گے۔ ریاست میں ا?رگینیک کھیتی کو فروغ دینے کے لیے کام کرنا۔ کوسی-میچی لنک پر کام ا?بپاشی کے لیے ریور لنکنگ اسکیم کے تحت جاری ہے۔ ان تمام اسکیموں کے لیے انتظامات کیے گئے ہیں۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ مدارس کی تعمیر نو کے لیے 40 کروڑ، پی ایم سی ایچ کی توسیع کے لیے 5540 کروڑ، ناری شکتی یوجنا کے لیے 60 کروڑ، گرلس سائیکل اسکیم کے لیے 50 کروڑ، لڑکیوں کے لباسا سکیم کے لیے 100 کروڑ، میٹرک میں فرسٹ ا?نے والے 9 کروڑ 4 لاکھ ہو چکے ہیں۔ اس کے لیے خرچ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ 21 صدر اسپتالوں کو ماڈل اسپتال بنایا جائے گا۔
وجے چودھری نے کہا کہ بہار کے تمام اضلاع میں اقلیتی اسکول بنائے جا رہے ہیں۔ فی الحال کشن گنج اور دربھنگہ اضلاع میں اسکول تیار کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت ریاست کے مدارس کی بہتری کے لیے کام کر رہی ہے۔ متھیلا پان ، مکانہ کو مرکزی حکومت نے جی ا?ئی اے ٹیگ دیا ہے۔ یہ بہار کے لوگوں کے لیے خوشی کی بات ہے۔ ناری شکتی یوجنا کے تحت مرکزی امتحان اور انٹرویو کی تیاری کے لیے یونین پبلک سروس کمیشن اور بہار پبلک سروس کمیشن کے ابتدائی امتحان میں کامیاب ہونے والی خواتین امیدواروں کو حکومت کی طرف سے ایک لاکھ کی رقم فراہم کی جائے گی۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ جیویکا یوجنا کے تحت خواتین کو سماجی سطح پر بااختیار بنایا جا رہا ہے۔ اب تک کل 10.45 لاکھ سیلف ہیلپ گروپس بنائے جا چکے ہیں۔ ایک کروڑ 30 لاکھ خاندانوں کی خواتین کو ان گروپوں سے جوڑا گیا ہے۔ 62 اسپتالوں میں دیدی کا باورچی خانہ ،ایس سی/ایس ٹی میں 14 دیدی کا باورچی خانہ، رہائشی اسکول اور دیگر ادارے جیویکا دیدی چلا رہے ہیں۔ اب حکومت ایمبولینس اور ای رکشہ کے لیے گرانٹ دے گی۔ گرل ڈریس اسکیم کے لیے 100 کروڑ ، میٹرک میں اول ا?نے والوں کے لیے 94 کروڑ خرچ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ مرکز کی نریندر مودی حکومت ہماری حکومت کی اسکیموں کی نقل کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم لوگوں نے ہر گھر بجلی یوجنا 2016 میں شروع کی تھی۔ مودی حکومت نے اسے 2017 میں نافذ کیا۔ پھر ہم لوگوں نے 2019 میں جل جیون ہریالی یوجنا شروع کیا۔ مودی حکومت نے یہاں بھی نقل کیا اور ہماری دیکھا دیکھی اسکیم کو پورے ملک میں نافذ کیا۔
ان کی تقریر کے دوران بی جے پی ممبران اسمبلی نے ہنگامہ بھی کیا۔ وزیر خزانہ وجے کمار چودھری نے کہا کہ بہار حکومت کی بڑی کامیابیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس کے مالیاتی خسارے کو کنٹرول کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ا?مدنی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ مرکز کے ذریعہ لائے گئے جی ایس ٹی پر وزیر خزانہ نے کہا کہ جی ایس ٹی کے بعد اب کئی جگہوں پر ٹیکس لگانا ممکن نہیں ہے۔ ایسے میں اس نقصان کو کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔