Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 26th Feb
بیروت،26فروری :لبنانی سکیورٹی حکام نے ہفتے کے روز بتایا کہ 5 روز قبل لاپتہ ہونے والے مسجد کے امام صاحب کو ان کے آبائی شہر کے لوگوں نے قتل کر دیا ہے۔ علاقے کے معروف خطیب الشیخ احمد الرفاعی کا ایک دہائی سے زیادہ عرصہ سے لوگوں سے اختلافات تھا۔ احمد الرفاعی کو مرتبہ پیر کی شام شمالی شہر طرابلس میں دیکھا گیا تھا۔ ان کی کار کچھ دن بعد شہر سے چند کلومیٹر جنوب میں ایک گاؤں سے ملی۔ ان کے اہل خانہ نے بتایا کہ پیر کی رات ان کا اس سے رابطہ ٹوٹ گیا۔احمد الرفاعی غریب شمالی صوبے ’’عکار ‘‘کے قصبے ’’قرقف ‘‘ کی مرکزی مسجد کے امام تھے۔ وہ اپنی شعلہ بیان تقریروں کے لیے جانے جاتے تھے اور حزب اللہ پر تنقید کرتے تھے۔ احمد الرفاعی کے قتل کے بعد لبنان میں فرقہ وارانہ کشیدگی کے بڑھے کا خدشہ پید ا ہوگیا ہے۔ معلوم ہوا کہ احمد الرفاعی کو ان کے آبائی شہر کے لوگوں نے قتل کیا۔ قاتلوں میں اس کے کچھ رشتہ دار بھی شامل تھے۔ ان رشتہ داروں کے ساتھ الرفاعی کا 2012 سے اختلاف چل رہا تھا۔داخلی سیکورٹی فورسز نے بتایا کہ نامعلوم افراد نے شیخ احمد الرفاعی کو طرابلس سے اغوا کرلیا اور انہیں ان کی گاڑی کے ساتھ نامعلوم مقام کی طرف لے گئے تھے۔ فیلڈ اور تکنیکی سہولیات کے استعمال سے انفارمیشن ڈویڑن نے 48 گھنٹوں میں مغوی کی کار کو تلاش کیا، اغوا کاروں کی کاروں میں سے ایک کو بھی ضبط کرلیا اور اغوا کاروں کو شناخت کرنے میں کامیابی حاصل کی تھی۔ اس حوالے سے مغوی کے تین رشتہ داروں سمیت چار اغوا کاروں کو گرفتار کرلیا تھا۔ دونوں فریقو ں میں پرانا جھگڑا چل رہا تھا۔

