Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 20th Feb
نئی دہلی،20فروری: مہاراشٹر کے بعد اب دہلی میں بھی بائیک ٹیکسیوں کے چلانے پر مکمل پابندی لگا دی گئی ہے۔ دہلی حکومت کے ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ نے اتوار کو اس کے لیے پبلک نوٹس جاری کیا ہے۔ پابندی کے بعد بھی موٹر سائیکل ٹیکسی ڈرائیوروں کے چالان کاٹے جائیں گے۔ گاڑی بھی ضبط کی جا سکتی ہے۔ اس سروس سے وابستہ تمام ایگریگیٹرز کو بھی خبردار کیا گیا ہے کہ اگر وہ اپنے پلیٹ فارم (موبائل ایپ؍ویب سائٹ) پر بکنگ جاری رکھیں گے تو ان کے خلاف موٹر وہیکل ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ ایک لاکھ روپے جرمانے کا انتظام ہے۔ محکمہ جلد ہی ایسے ایگریگیٹرز کو وجہ بتاؤ نوٹس بھیجنے کی بھی تیاری کر رہا ہے۔دہلی، ممبئی اور ملک کے کئی دوسرے بڑے شہروں میں پچھلے کچھ سالوں میں بائیک ٹیکسیوں کا استعمال بہت مقبول ہوا ہے، لیکن زیادہ تر جگہوں پر صرف پرائیویٹ بائک یا سفید نمبر پلیٹ والی اسکوٹر ہی ٹیکسیوں کے طور پر استعمال ہو رہی ہیں۔ مرکزی وزارت ٹرانسپورٹ نے بھی اس پر اعتراض کیا تھا۔ ریاستوں کو اس پر پابندی لگانے کی ہدایت دی گئی تھی۔ ٹرانسپورٹ کمشنر آشیش کندرا کا کہنا ہے کہ موٹر وہیکل ایکٹ کے تحت نجی گاڑیوں کو ٹیکسی کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔دہلی میں بائیک ٹیکسیوں پر پابندی کے پیچھے بنیادی وجہ لوگوں کی حفاظت اور قوانین کی تعمیل کو یقینی بنانا بتایا جا رہا ہے۔ دہلی کے ٹرانسپورٹ کمشنر آشیش کندرا کا کہنا ہے کہ ٹیکسی خدمات کے ریگولیٹری فریم ورک میں ڈرائیوروں کے لیے مختلف ذمہ داریوں کی تعمیل کرنا لازمی ہے۔ اس میں بہت سے قواعد شامل ہیں جیسے حفاظتی اصولوں پر عمل کرنا، صنفی حساسیت۔ کندرا نے کہا کہ موٹر وہیکل ایکٹ کے تحت نجی گاڑیوں کو ٹیکسیوں کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ دہلی میں دو پہیہ گاڑیوں کو ٹیکسیوں کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت دینے کے لیے کوئی علیحدہ ریگولیٹری فریم ورک بھی نہیں ہے۔ اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے، یہ نوٹس ان ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو روکنے کے لیے جاری کیا گیا ہے جو ایسی خدمات فراہم کر رہے تھے۔

