Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 22nd Feb
پٹنہ پریس ریلیز۲۲؍فروری ۲۰۲۳ء بروز بدھ
آج دو پہر ۳۰: ۱۲ بجے سے شعبۂ فارسی پٹنہ یونیورسٹی میں عالمی یوم مادری زبان کا پروگرام منعقد ہوا جس میں اساتذہ کرام مہمانان وطلبا کے علاوہ دیگر حضرات نے شرکت کی۔ اس پروگرام کی صدارت شعبہ کے صدر جناب پروفیسر محمد عابد حسین نے فرمائی، مہمان اعجازی جناب ڈاکٹر محمد اعجاز احمد صاحب ڈائریکٹرادارۂ تحقیقات عربی وفارسی پٹنہ کا خطاب ہوا ۔ پروگرام کا آغاز عبد المتین کے تلاوت کلام پاک اور نعت رسولﷺ سے ہوا۔ اس کے بعدشعبہ کے استاذ جناب ڈاکٹر محمد صادق حسین نےیوم مادری زبان کی تاریخی پس منظرپیش کیا۔ اور مادری زبان کی اہمیت وافادیت کو بتاتےہوئے کہا کہ انسان کو اپنی مادری زبان سے بہت زیادہ انسیت ولگائو ہوتی ہے۔ اس کے لیے وہ اپنی جان کی بازی تک لگا دیتا ہے، جیسا کہ بنگلہ دیش میں دیکھنے کو ملا۔ پروگرام میں شریک مہمان اعجازی جناب ڈاکٹر محمد اعجازاحمد صاحب نے اپنے بیان میں فرمایا کہ آج ہم اور ہمارا سماج مادری زبان سے دور ہو تاہوا نظر آرہا ہے ہر بچہ ہوش سنبھالنے کے بعد انگریزی بولنے کی کوشش میں لگ جاتا ہے اور والدین بھی بچوں سے انگریزی سننا پسند کرتے ہیں یہ کافی افسوس ناک ہے۔ اس سے ہماری آنے والی نسلیںاپنی زبان سے نا آشنا ہوتی جائیںگی۔ اس لیے مادری زبان کی بقاکے لیےہمیں چاہیے کہ اپنے بچوں کو اپنی مادری زبان کی ہی ترغیب دیں ۔ اس کے بعد صدر مجلس جناب پروفیسر محمد عابد حسین نےخطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آج کے اس مادہ پرستی کے دور میں ہمارے بچے زبان کا خیال نہیں رکھ رہے ہیں اور وہ انگریزی زبان کو پڑھنا لکھنا اور بولنا قابل فخر سمجھتے ہیں، جوکہ بہت افسوس ناک ہے ۔ مادری زبان کے تعلق سے کچھ اقوام ہیں جو آج بھی بہت متحرک ہیں جیسے چینی، جاپانی، روسی، فرانسیسی، جرمن وغیرہ یہ لوگ دنیا کے کسی بھی حصے میں ہوں اپنی ہی زبان بولنا فخر سمجھتے ہیں اور ہر پریشانی کا حل اپنی ہی زبان میں جلد سے جلد برآمد کرلیتے ہیں۔ اس لیے ہم سب کوبھی اس کے لیے فکری اور علمی طور پر متحرک ہونا ہوگا تاکہ ہماری مادری زبان کی اہمیت بڑھے ہمیں کوشش کرنی ہے کہ ہم جہاں کہیں بھی ہوں اپنی زبان کی پیشرفت کی کوشش کریںاور اس میں کسی طرح کی شرم یا عار محسوس نہیں ہونا چاہیے۔ بلکہ جہاں بھی رہیں فخر سے ہندی اردو اور جو بھی اپنی مادری زبان ہے اس کا استعمال کریں۔
پروگرام میں شامل مہمان کی حیثیت سے جناب شاداب احمد (سماجی کار کن) نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مادری زبان کو زندہ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے گھر میں اپنی زبان کے اخبار ضرور منگوائیں اور اپنے گھر والوں کو پڑھنے کی ترغیب دیں ۔ اس سے ہماری مادری زبان مستحکم ہوگی۔پروگرام میں شامل جناب ڈاکٹر محمد انور حسین زاہدی نےمادری زبان کے تعلق سے اپنا اظہار خیال فرمایا اور اشعار وغیرہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح آج ہم لوگ عالمی یوم مادری زبان کے موقع سے اکٹھا ہوئے ہیں، اسی طرح ہم سب کوچاہیے کہ موقع بہ موقع اکٹھے ہوں اور ادبی پروگرام ہوتارہے۔
شعبہ کے استاذ جناب ڈاکٹر محمد محمود عالم صاحب نے نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے سارے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہم لوگ اپنی مادری زبان کے جتنے نزدیک ہونگے کامیابی اتنی جلدی ملے گی اور ہمارے ادب وثقافت سے دنیا روشناس ہوگی۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے بچوں کو بھی مادری زبان کی ترغیب دلائیں۔تاکہ ہماری نسلیںمادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے سے تکنیکی اور فنی تعلیم کے میدان میں کارہائے نمایاں انجام دے سکیں۔ مادری زبان میں تعلیم پانے والے طلبا کو کبھی بھی احساس کمتری کا شکار نہیں ہونا چاہیے بلکہ جو مادری زبان میں تعلیم حاصل کرتے ہیں وہ اعلیٰ تعلیم کے میدان میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔

