شعبۂ فارسی پٹنہ یونیورسٹی پٹنہ میں یک روزہ سمپوزیم کا انعقاد

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 28th Feb

پٹنہ 28فروری 2023ء پٹنہ یونیورسٹی کے شعبۂ فارسی میں فارسی درس وتدریس اور اس سے منسلک مختلف مسائل اور اس کے حل کے متعلق ایک سمپوزیم کا انعقاد کیا گیا۔ سمپوزیم میں پٹنہ یونیورسٹی اور مولانا مظہر الحق عربی وفارسی یونیورسٹی کے شعبۂ فارسی کے اساتذہ نے شرکت کی شعبۂ فارسی پٹنہ یونیورسٹی کے بہت ہی متحرک وفعال اور تجربہ کار استاذڈاکٹرمحمد صادق حسین نے اپنے بیان میں فرمایا کہ فارسی ہندوستان کی سرکاری زبان رہ چکی ہے، ہندوستان کے مختلف صوبے اورشہر اس زبان و ادب کے مراکز رہ چکے ہیں ان میںصوبہ بہار اور خصوصاً عظیم آباد کا نام تاریخ کے اوراق میں نمایاں نظر آتاہے۔ عظیم آباد میں اپنے وقت کے بڑے بڑے فارسی زبان وادب کے ماہرین گزرے ہیں ۔ آج بھی ان کی تصنیفات و تالیفات متلاشیان علوم وفنون اور محققین کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔فارسی زبان وادب کا سیکھنا آج بھی باعث فخراور اپنی تاریخ کو جاننے کا اہم ذریعہ ہے مگر پچھلے چند سالوں سے یہ محسوس کیا جارہا ہے کہ فارسی زبان وادب سے دلچسپی رکھنے والے لوگوں کی کمی ہوتی جارہی ہے۔ فارسی زبان وادب کے طالب علموں کی بھی کمی محسوس کی جارہی ہے اس کی اصل وجہ شروعاتی کلاس میں بچوں کو فارسی زبان کی طرف مائل نہ ہونا ہے اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ شروعاتی کلاس سے ہی بچوں کو فارسی زبان کی طرف رغبت دلائی جائے تاکہ وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے بھی فارسی زبان وادب کی طرف مائل ہوں۔
ڈاکٹر محمد جاوید اختراستاذ شعبۂ فارسی مولانا مظہر الحق عربی وفارسی یونیورسٹی پٹنہ نے اپنے بیان میں کہا کہ بہار کے مدارس اور خانقاہیں درس وتدریس اور تحقیق کے اہم مراکز رہے ہیں اور یہاں کے مدارس کے فارغین نے نہ صرف صوبہ بہار بلکہ پورے ہندوستان اور بیرون ملک میں نمایاں خدمات انجام دئیے ہیں۔ پچھلے چند دہائیوں سے ان مدارس سے ایسے نامور فارغین کم دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ دوبارہ ان مدارس میں فارسی درس وتدریس پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے انھیں روزگار سے جوڑنے کی کوشش کی جائے۔پروگرام میں شامل ڈاکٹر محمد ابو الکلام آزاد استاذ شعبۂ فارسی پٹنہ یونیورسٹی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مدارس کے ایسے فارغین جو فاضل کی ڈگری حاصل کر لیں، انہیں تحقیق سے جوڑنے کے لیے یونیورسٹیوں میں پی-ایچ-ڈی میں داخلہ دیا جانا چاہیے تاکہ انہیں اعلیٰ تعلیم کے شعبہ میں روزگار سے جوڑا جاسکے۔ڈاکٹر طارق عطاءاستاذ شعبۂ فارسی مولانا مظہر الحق عربی وفارسی یونیورسٹی پٹنہ نے کہا کہ ہندوستانی تاریخ کے اہم منابع وماخذ فارسی زبان میں موجود ہیں اپنی تاریخ کی بازیافت اور سماجی وثقافتی آگہی کے لیے ضروری ہے کہ ایسے ماخذ اور منابع کو ہندوستانی عوام کے سامنے لایا جائے۔ فارسی طلبا ، محققین اور اساتذہ اس سمت میںاہم رول ادا کرسکتے ہیں۔ ڈاکٹر محمدمحمود عالم استاذ شعبہ فارسی پٹنہ یونیورسٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ موجودہ دور میں کسی بھی زبان کو تبھی فروغ حاصل ہو سکتا ہے جب اسے روزگار سے جوڑا جائے۔ یہ پیغام عام کرنے کی ضرورت ہے کہ فارسی زبان کی تعلیم حاصل کر کے سرکاری محکمہ جات کے علاوہ گلوبل مارکیٹ میں روزگار کے مواقع حاصل کیے جاسکتےہیں۔