Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 25th Feb
غالب اکیڈمی کے زیر اہتمام آزادی کے بعد پچہتر سال میں غالب تنقید پر ایک نیشنل سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔پہلے اجلاس میں پروفیسر وہاج الدین علوی نے اپنے مقالے میںکہا کہ پچہتر سال میں غالب پر بہت کام ہوا ہے۔غالب نے کوئی فلسفہ نہیں پیش کیا وہ فلسفی دل کے مالک تھے۔ وہ معنی آفرینی کے شاعر تھے۔انھوں نے غالب کے شارحین اور ناقدین کا خصوصی ذکر کیا۔شمیم طارق نے اپنے مقالے پچہتر سال میں غالب تنقید کے رجحانات پر بولتے ہوئے کہا کہ غالب، تنقیدکا نقطۂ آغاز ہے۔ غالب نے اپنے بہت سے اشعار کو دیوان سے الگ کردیاتھا۔پچہتر سال میں غالب تنقید کے سب سے اہم نقاد شمس الرحمان فاروقی ہیں۔ دوسرے گوپی چند نارنگ کی کتاب بھی بہت اہم ہے۔ غالب نے سر سید اور شبلی دونوں کو متاثر کیا تھا۔پروفیسر شریف حسین قاسمی نے کہا کہ غالب کا اصل ماخذ بیدل ہے۔گوپی چند نارنگ غالب پر لکھتے ہوئے حالی کو پیش نظر رکھتے ہیں۔پہلے اجلاس میں شاداب تبسم نے اسلوب احمد انصاری کی غالب تنقید پر مقالہ پڑھا۔خوسے مورالیس نے کہا کہ مغرب کے لوگ فارسی اصطلاحات اور تلمیحات کو نہیں سمجھتے ان کا ترجمہ اسپینش میں ممکن نہیں ہے جب کہ اسلامی اصطلاحات اور تلمیحات کو سمجھانے میں دشواری نہیں ہوتی۔پہلے اجلاس کی صدارت ڈاکٹر جی آر کنول نے کی۔ دوسرے اجلاس کی صدارت پروفیسر قاضی افضال حسین نے کی ،انھوں نے کہا کہ غالب کا زور معنی کو چھپانے میں تھا۔ پروفیسر قاضی جمال حسین نے آل احمد سرور کی غالب تنقید پر بولتے ہوئے کہا کہ آل احمد سرور نے غالب پر پچیس مضامین لکھے ۔ترجمے وتبصرے الگ ہیں۔اپنی تنقید میں انھوں نے حالی سے مکالمہ قائم کیا ہے۔ سرور صاحب کے مطابق غالب کی عظمت متروک کلام کی وجہ سے ہے۔سرور صاحب نے غالب کے متن پر گفتگو کی ہے۔ شعر میں پیچیدگی ہونی چا ہیے۔سرور صاحب کی تنقید امتیازی حیثیت رکھتی ہے۔اس سے نئی راہیں کھلتی ہیں۔ دوسرے اجلاس میں حنا آفرین اور صالحہ عاصم نے شمیم حنفی کی غالب تنقید پر مضمون پڑھا ،کیلاش وششٹھ سمیر نے ہندی میں غالب تنقیداور ڈاکٹر گیتانجلی کالا نے انگریزی میں غالب تنقید پر مقالہ پڑھااور ڈاکٹر خالد علوی نے غالب کے کم معروف ناقدین پر مقالہ پڑھا۔ پروفیسر ابو بکر عباد نے علی گڑھ کے غالب ناقدین کا ذکرکیا۔ڈاکٹرنفیس بانو نے محمد حسن کی غالب تنقید پر مضمون پڑھا۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر خالد اشرف نے ادا کئے۔

