Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 24th Feb
گزشتہ روز غالب اکیڈمی،نئی دہلی میںمشہور ڈراما آرٹسٹ انیس اعظمی(سابق سکریٹری اردو اکادمی دہلی) نے غالب کے گیارہ خطوط ڈرامائی انداز میں پیش کئے۔ان خطوط کو غالب نے1857کے بعد تحریر کئے تھے۔جو رنج غم سے پر تھے اور غالب کی زندگی کے آخری حصے سے تعلق رکھتے ہیں۔انیس اعظمی نے ان خطوط کو اس انداز سے پیش کیا کہ اس میں رنج و ملال کا تاثر پیدا ہوگیا۔زبان کی ادائیگی اس طرح کی کہ سامعین کو رونا آگیا۔اس موقع پر پروفیسر شریف حسین قاسمی نے کہا کہ انیس اعظمی کی پیشکش ایسی تھی جیسے غالب خود خط پڑھ رہے ہیں۔خطوط غالب کی سب سے بڑی نثری صنف ہے۔اس موقع پر ڈاکٹر جی آر کنول نے کہا کہ انیس اعظمی بڑے ڈراما آرٹسٹ ہیں انھوں نے غالب کے خطوط کو موثر انداز میں پیش کیا۔ریشما فاروقی نے پروگرام کی نظامت کی اور غالب کے خطوط کا تعارف اور تاریخ پیش کی۔اس موقع پر جاپان سے آئے اردو طلبا،نگار عظیم،ظہیر برنی،سید محمد اقبال،عدنان عظیم،فاروق ارگلی،ٹی این بھارتی، سید اقبال،غفران اشرفی،فاطمہ کرمانی،محمد غلام،کشش شیوانی،روی پٹوردھن،فضل بن اخلاق وغیرہ موجود تھے۔

