Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 23rd Feb
۲۳؍فروری،۲۰۲۳
پریس ریلیز،نئی دہلی:
’’فلسفہ کائنات اور انسان پر غوروفکر کی دعوت دیتا ہے اور جب کوئی مسلم فلسفی اس حوالے سے بات کرتا ہے تو اس میں ذات باری تعالیٰ کو مرکزی حیثیت حاصل ہو جاتی ہے ۔‘‘ ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر وارث متین مظہری،استاذ،شعبہ اسلامک اسٹڈیز،جامعہ ہمدرد،نئی دہلی نے چوتھے توسیعی خطبہ کے دوران کیا۔واضح رہے کہ اس توسیعی خطبہ کا اہتمام شعبہ اسلامک اسٹڈیز،جامعہ ملیہ اسلامیہ،نئی دہلی نے ’’عہد عباسی میں مسلم فلسفہ کاارتقاء اور اسلامی فکر پر اس کے اثرات‘‘ کے موضوع پر کیا تھا۔انہوں نے طلبہ وطالبات کومسلم فلسفہ کی تاریخ سے واقف کراتے ہوئے بتایا کہ مسلمانوںمیں اس کا آغاز یونانی فلسفہ کے تراجم سے ہوا اور پھر رفتہ رفتہ خود مسلمان اس فن کے ماہر ہوتے چلے گئے۔مسلم فلسفیوں کا دورِ عروج نویں صدی سے بارہویں صدی تک رہا ہے جن میں یعقوب الکندی،فارابی،ابن سینا ،ابن رشد، امام غزالی اور امام ابن تیمیہ وغیرہ جیسے عظیم فلسفیوں کا نام لیا جاسکتا ہے۔امام غزالی کا ایک بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے مسلمانوں میں در آئے یونانی فلسفہ کے اثرات کو کم زور کیااور امام ابن تیمیہ نے اسلامی فکر سے متصادم فلسفہ کو رد کیا۔ڈاکٹر محمد ارشد نے مسلم فلسفہ کے ضمن میں فرمایا کہ اسلام نے عقل کے استعمال پر خصوصی زور دیا ہے ،البتہ اسے وحی کے تابع رکھنا ضروری ہے۔پروفیسر اقتدار محمد خان،صدر شعبہ اسلامک اسٹڈیز نے اپنے صدارتی کلمات میں فرمایا کہ مسلم فلسفیوں کا امتیاز یہ رہا ہے کہ انہوں نے مذہب اسلام کی بنیادی تعلیمات پر قائم رہتے ہوئے فلسفے کی خدمت کی،نیز علمی دنیاعباسی خلفاء کی احسان مند ہے کہ انہوں نے نہ صرف یونان،مصر،ایران اور ہند کے فلسفیانہ علوم کو محفوظ کیا ،بل کہ فیثا غورث،سقراط،افلاطون،ارسطو،جالینوس اور دیگر یونانی مفکرین کی کتابوں اور مضامین کا ایک بڑا حصہ عربی زبان میں دنیا کے سامنے پیش کیاہے۔پروگرام کا آغاز ایم اے کے طالب علم ابراہیم خان کی تلاوتِ قرآن سے ہوا۔نظامت اورکلمات تشکرکے فرائض توسیعی خطبہ کے انچارج جناب جنید حارث نے انجام دیے۔اس پروگرام میں شعبہ کے اساتذہ ڈاکٹرمحمد عمر فاروق،ڈاکٹر خورشید آفاق،ڈاکٹر عبدالوارث خان،ڈاکٹر جاوید اختر، ڈاکٹر انیس الرحمن،ڈاکٹر محمد اسامہ،ڈاکٹر ندیم سحر عنبریں،ڈاکٹر عمار عبدالحئی اورڈاکٹر محمد مسیح اللہ کے علاوہ ریسرچ اسکالرس،ایم اے اور بی اے کے طلبہ وطالبات کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ پروگرام کو کام یاب بنانے میں ابراہیم خان،جویریہ عبداللہ،امن عثمان،ثانیہ اورشہنوازوغیرہ کا اہم کردار رہا۔

