مرثیہ نگاری میں لکھنؤ کے قلمکاروں کی اہمیت کے عنوان سے سیمینار کا انعقاد

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 18th Feb

لکھنؤ ۱۸ فروری: مرثیہ پر مبنی ایسے موضوع پر کئی روزہ سیمینار کے انعقاد کی ضرورت درکار ہے۔ مرثیہ کو فنی عروج دراصل لکھنؤ کے شعرا نے دیا ہے۔ لکھنؤ میں آصف الدولہ کے ذور سے پہلے عزاداری شروع ہو چکی تھی۔ اس قبل یہاں مجالس کا سلسلہ قائم تھا۔ انسان سازی کے عمل میں مرثیہ کا بہت بڑا رول ہے۔ لکھنؤ کے مرثیہ گو شعرا نے مرثیہ نگاری کی روایت پر جمود طاری نہیں ہونے دیا۔مرثیہ کے متعلق ان خیالات کا اظہار معروف ناقد اور محقق، استاذ الاساتذہ پروفیسر شارب ردولوی نے یونیک ویلفیئر فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام فخرالدین علی احمد میموریل کمیٹی لکھنؤ کے اشتراک سے ‘مرثیہ نگاری میں لکھنؤ کے قلمکاروں کی اہمیت’ کے عنوان سے ایک سیمینار میں کیا۔اس سیمینار کاانعقاد کیفی اعظمی اکیڈمی نشاط گنج لکھنؤ میں کیا گیا جس کی صدارت پروفیسر شارب ردولوی نے کی۔ پروگرام میں بطور مہمان خصوصی جناب اطہر صغیر تورج زیدی شامل ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ مرثیہ نے اردو کو زندہ رکھا ہے۔ یہ صرف مذہبی صنف نہیں بلکہ تہذیب و زبان کا مکمل سرمایہ ہے۔ یہ صنف ہماری تہذیبی اور ادبی وراثت ہے۔ مہمان ذی وقار کے طور پر شامل شعبہ اردو لکھنؤ یونیورسٹی کے سابق صدر پروفیسر عباس رضا نیر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لکھنو ٔکے مرثیہ نگاروں نے فرات کے کنارے کا واقعہ گومتی کے کنارے پیش کردیا۔ میر انیس کے یہاں جنگ کی اخلاقیات کے آداب بخوبی ملتے ہیں۔ لکھنؤکی مرثیہ نگاری کے بغیر شاعری کا تصور بے جا ہے۔اس سیمینار میں انجمن اصلاح المسلمین کے انچارج سید بلال نورانی اور کرامت حسین مسلم گرلز پی جی کالج کی صدر شعبۂ اردو پروفیسر شبنم رضوی نے بھی شرکت کی اور مرثیہ نگاری میں لکھنؤ کے قلمکاروں کی اہمیت صحت کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ مقالہ نگاران میں مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی سے ڈاکٹر مسیح الدین خان، شعبہ اردو کرامت حسین مسلم گرلز پی جی کالج کی اسسٹنٹ پروفیسرڈاکٹر نزہت فاطمہ، جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی سے ڈاکٹر روئیدہ خان، امیر الدولہ اسلامیہ ڈگری کالج کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر یاسر انصاری، الہ آباد (پریاگ راج) سے ڈاکٹر سید انور صفی اور ریسرچ اسکالر غزالہ شیریں نے اپنے پرمغز مقالات پیش کیے۔پروگرام کی نظامت عقیل فاروقی نے کی۔پروگرام کی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر نزہت فاطمہ رہیں۔ پروگرام کے آخر میں یونیک ویلفیئر فاؤنڈیشن کی سکریٹری اور سیمینار کی کنوینر بڑی تبسم فاروقی نے سبھی مہمانان اور مقالہ نگاروں کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر یونیک ویلفیئر فاؤنڈیشن کے صدر طارق فاروقی، ڈاکٹر عمار نگرامی، کمال صدیقی (مصنف ستیہ میو جیتے)، انیس نگرامی، ڈاکٹر ثروت تقی، حمید اللہ صدیقی، ایس این لعل، سینئر صحافی جناب قطب اللہ، ضیا اللہ صدیقی، سیف بابر، ڈاکٹر احتشام احمد، ڈاکٹر آل احمد،محمد آفاق، اعجاز احمد، ڈاکٹر جاں نثار عالم، انور حبیب علوی، احمد نگرامی، بلال فاروقی، درخشاں رشید، فرحانہ، محمد فہیم ،محمد عاصم سمیت تمام معزز حاضرین موجودرہے۔