Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 24th Feb
ممبئی ،24،فروری:ممبئی شہر ڈسپلن میں اوّل نمبر رہا ہے جبکہ دارالحکومت دہلی غیر ڈسپلن شہروں میں صف اوّل پایا گیا ہے،انفوسیس کے سربراہ نارائن مورتھی نے اس سلسلہ میں ایک سروے کروایا ،اور یہ نتیجہ سامنے آیا ہے ،دراصل نارائن مورتھی نے دہلی میں ڈسپلن نام کی کوئی چیز نہ ہونے پر ممبئی سمیت بڑے شہروں کاسروے کروانے کافیصلہ کیا اور ممبئی کا نمبر اؤل آیا ہے۔انفوسیس کے شریک بانی نارائن مورتھی نے کہا ہے کہ وہ دہلی کا دورہ کرنے میں بہت بے چینی محسوس کرتے ہیں کیونکہ شہر میں “بے نظمی سب سے زیادہ” ہے۔دہلی شہر میں ڈسپلن نام کی کوئی چیز نہ ہونے پر سخت برہمی کا اظہار کیا کہ دارالحکومت میں سب سے زیادہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہوتی ہے اور یہ عام سی بات ہے اور نہ ہی شہری اسے غلط سمجھتے ہیں۔نارائن مورتھی نے مثال دیتے ہوئے کہاکہ گزشتہ روز وہ ایئرپورٹ سے شہر آرہے تھے ،تب یہ دیکھا کہ متعدد کار ڈرائیور اور بائیک سوار سُرخ بتی کی خلاف ورزی بلا خوف و خطر کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔”اگر ہم آگے بڑھنے کے لیے ایک منٹ یا ایک دن بھی انتظار نہیں کر سکتے تو کیا آپ کولگتا ہے کہ وہ لوگ انتظار کریں گے اگر پیسہ ہے (ملوث)؟”
ملک کے لیے ایک اور “حقیقت” کی جانچ پڑتال میں، گزشتہ دسمبر میں بھی طلباء سے خطاب کرتے ہوئے، مورتی نے کہا تھا کہ حقیقت وہی ہے جو آپ بناتے ہیں۔ ہندوستان میں حقیقت کا مطلب ہے بدعنوانی، گندی سڑکیں، آلودگی، اور کئی بار کوئی طاقت نہیں۔ تاہم، سنگاپور میں حقیقت کا مطلب صاف سڑک، کوئی آلودگی نہیں، اور بہت زیادہ طاقت ہے۔ اس لیے اس نئی حقیقت کو تخلیق کرنا آپ کی ذمہ داری ہے۔”
واضح رہے کہ منی کنٹرول معاشی ویب سائٹ کے سروے میں ممبئی کو 31،فیصد ووٹ کے ساتھ ڈسپلن میں خصوصی طور پر ٹریفک قوانین پر عمل آوری کے لیے اوّل نمبر دیا گیا ہے۔جبکہ دہلی کا نمبر آخری رہا،البتہ بنگلورو کودوسرا،چننی کو تیسرااور کولکاتہ چوتھا اؤردھلی شہر آخری نمبر پر رہا ہے۔

