مولانا مطیع الرحمن بن عبد المتین اور ایم پی محبوب علی قیصر کا جدہ میں منعقد ہندوستانی تارکین وطن تقریب میں شاندار استقبال

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 24th Feb

 کشن گنج 24 فروری (آفتاب عالم صدیقی )
 جدہ میں ہندوستانی سماج کے اعلی ممبران نے ممبر آف پارلیمنٹ اور سابق چیئرمین، حج کمیٹی آف انڈیا عالی جناب محبوب علی قیصر، امام بخاری یونیورسٹی کشن گنج کے بانی عالی جناب مطیع الرحمن بن عبد المتین ، سابق ممبر، حج کمیٹی آف انڈیا  جناب عرفان احمد  اور نئی دہلی میں مقیم کاروباری اور سماجی کارکن جناب احتشام الحق کا جدہ  ہالیڈے ان میں پرتپاک استقبال اور خیر مقدم کیا ۔ اس موقع پر کثرت میں وحدت یعنی  ہندوستانی سماج کے مابین باہمی اتحاد کے انتہائی اہم تصور پر زور دیا گیا وہیں آبائی ملک ہندوستان کی مختلف ریاستوں سے ہندوستانی سماج و معاشرے کے  سرکردہ حضرات نے تقریب میں شرکت کی۔ پروگرام کا آغاز ریان آصف کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ یوتھ آئیکون عمران کوثر نے تقریب کی کارروائی کو اخیر تک جاری رکھا۔ اپنے افتتاحی کلمات میں کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی کے انگلش لینگویج انسٹی ٹیوٹ کے آصف رمیز داؤدی نے مہمانوں کا خیرمقدم کیا اور میزبان ملک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں تارکین وطن کے کردار کے ساتھ ساتھ تعلیم اور سماج و معاشرے کی خدمات کی اہمیت پر زور دیا کونکہ میزبان ملک ایک دوسرے کا گھر بن چکا ہے۔جس میں تقریباً 2.5 ملین ہندوستانی تارکین وطن مقیم ہیں۔ مولانا مطیع الرحمٰن بن عبد المتین نے امام بخاری یونیورسٹی کے قیام عمل کےحوالے سے اپنے تجربات کو سامعین کے سامنے پیش کیا۔  انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی ایک خواب کی تعبیر ہے۔  “آج ہم جس مقام پر ہیں یہاں تک پہنچنے کے لیے بہت ساری محنت اور جد و جہد  کرنا پڑی ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امام بخاری یونیورسٹی بحث و  تحقیق کا ایک اہم مرکز بننے جا رہی ہے۔  یہ ایک ایسے وسیع و عریض علاقے میں قائم ہے جس میں پسماندہ لوگ کثیر تعداد میں آباد ہیں۔  ہمارا مقصد غریب سے غریب اور بہترین لوگوں تک پہنچنا اور معیاری تعلیم اور عالمی معیار کی تحقیقی سہولیات فراہم کرنا ہے۔مہمان خصوصی محبوب علی قیصر نے قرآن پاک اور احادیث سے مثالیں پیش کرتے ہوئے تعلیم کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔  وہ مہمانوں کے تئیں تارکین وطن کی طرف سے دکھائے جانے والے پیار اور احترام کے پیش نظر خوشی سے لبریز تھے۔  وہ مولانا مطیع الرحمن بن عبد المتین کی مخلصانہ کوششوں کے بارے میں جان کر بے حد  خوش ہوئے۔ اہل خیر حضرات جیسے شمیم کوثر اور صحافی رام نارائن آئر نے تعلیم، اتحاد، تحریک اور سماجی خدمات پر اپنی متاثر کن تقریروں سے سامعین کو مسحور کیا۔  ڈاکٹر ریحان مسعود کو کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی کے انگلش لینگویج انسٹی ٹیوٹ میں ان کی 22 سال کی مثالی خدمات پر اعزاز سے نوازا گیا۔  ڈاکٹر صولت عباس کو ’’دیسی بوائے‘‘ کے نام سے کتاب لکھنے پر اعزاز سے نوازا گیا۔ ہالیڈے ان سے تعلق رکھنے والے جاوید اقبال اور مہتاب کو اسٹیج میں فراہم کی جانے والی قابل ستائش خدمات پر کافی سراہا گیا۔
 منتظمین آصف داؤدی، غضنفر عالم، شہزادہ مفتی ضیاء، قمر سعدا، اسد علی، عمران کوثر، زکریا بلادی، غضنفر ذکی اور غفران نشتر نے اس شام کی تقریب کو کامیاب بنانے پر مہمانوں اور حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔