Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 23rd Feb
پٹنہ: ۲۳؍فروری۲۰۲۳ء : لائبریری کا بنیادی کام علم کی نشر و اشاعت ہے اور اس کے لئے ورکشاب، سمپوزیم، سیمنار، مذاکرہ اور لکچر جیسے مختلف ذرائع استعمال کئے جاتے ہیں۔ علم کی اشاعت کے ساتھ اس کا تحفظ بھی ضروری امور میں شامل ہے۔ لائبریری کا ایک اہم حصہ نادر اور نایاب کتابوں کا ہوتا ہے اور ان کتابوں کا تحفظ سب سے اہم ہوتا ہے۔ اسی مناسبت سے اس لکچر کا انعقاد کیا گیا ہے تاکہ جدید تکنیک کے علاوہ دیسی طریقۂ تحفظ سے بھی ہم واقف ہو سکیں۔ خدا بخش لائبریری میں بڑی تعداد میں نادر مخطوطات اور نایاب کتابیں موجود ہیں جن میں تاریخ خاندان تیموریہ، دیوان حافظ، کتاب التصریف اور کتاب الحشائش قومی اہمیت کے حامل مخطوطات ہیں۔ اسی تناظر میں محترمہ شاہین معراج کوثر ، ریسرچ اسکالر، بی آر امبیدکر یونیورسٹی، دہلی کو اس اہم موضوع پر لکچر دینے کے لئے مدعو کیا گیا تاکہ ان کے افکار و خیالات کی روشنی میں دیسی طریقے سے نایاب اور نادر کتابوں اور مخطوطات کے تحفظ کا ہنر جان سکیں۔ مذکورہ باتیں ڈاکٹر شائستہ بیدار، ڈائرکٹر خدا بخش لائبریری نے اپنی افتتاحی تقریر میں کہیں۔
محترمہ شاہین معراج کوثر صاحبہ نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ میں خدا بخش لائبریری یہاں کے ایک اہم مخطوطہ تاریخ خاندان تیموریہ کی وجہ سے آئی ہوں تاکہ جان سکوں کہ اس کے تحفظ کا کون سا طریقہ اپنایا جارہا ہے۔ خراب ہوتی چیزوں کی رفتار کو کم کرنا ہی تحفظ کہلاتا ہے، ہر چیزتحفظ کی محتاج ہے۔ ہم جن چیزوں کو اہم سمجھتے ہیں، سب سے پہلے ان کے تحفظ کی فکر لاحق ہوتی ہے۔ چنانچہ پرانی چیزوں کے تحفظ میں وہی طریقہ اپنانا چاہئے جس طریقہ سے وہ چیز تیار کی گئی ہے تاکہ نقصان کم سے کم ہو اور کوشش یہ ہونی چاہئے کہ کم سے کم تبدیلی کرنی پڑے۔ جن چیزوں پر لکھا جاتا ہے، ان کو سب سے پہلے اس قابل بنایا جاتا ہے کہ طویل مدت تک وہ باقی رہ سکے۔ مخطوطات کو پانی اور تیل سے بچانا چاہئے اور برابر اس کی دیکھ بھال کرنی چاہئے اور احتیاط سے کام لینا چاہئے۔ تل کا تیل اور ہلدی کے استعمال سے جراثیم کو روکا جا سکتا ہے، اسی طرح لال کپڑے کا استعمال اس کو جراثیم کے حملے سے روکتا ہے۔ ساتھ ہی نیم اور چندن کی لکڑی سے بنے ہوئے باکس میں رکھنے سے بھی جراثیم سے بچا جا سکتا ہے۔ نیم کے پتے، کپور، منگریلا، لونگ وغیرہ بھی تحفظ کے نقطہ نظر سے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ نئی تکنیک کا استعمال بھی ضروری ہے لیکن جو پرانا دیسی طریقہ ہے، اسے بھی برقرار رکھنا چاہئے تاکہ مضر اثرات سے بچا جاسکے۔
آخر میں ڈائرکٹر صاحبہ نے کہا کہ جدید تکنیک کے ساتھ ساتھ دیسی طریقہ کو بھی اپنانا چاہئے تاکہ وہ پرانا دیسی طریقہ بھی محفوظ رہ سکے اور جدید تکنیک کا جو سائڈ افیکٹ ہوتا ہے، اس طریقہ کو اپنا کر اس سے بچا جاسکتا ہے۔

