وشو بھارتی تنازعہ پر وائس چانسلر نے کہا۔ ممتا آنکھ کے بجائے کان سے دیکھتی ہیں

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 2nd Feb

کولکاتا، 2 فروری: وشو بھارتی میں زمین کے تنازعہ پر یونیورسٹی انتظامیہ اور ریاستی حکومت کے درمیان مسلسل تکرار جاری ہے۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ودیوت چکرورتی نے وشوبھارتی سے متعلق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے الزامات پر ایک بار پھر جوابی حملہ کیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کو لکھے گئے ایک خط اور پریسبیان میں انہوں نے کہا ہے کہ ممتا بنرجی کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہر کوئی آنکھوں سے دیکھتا ہے لیکن وہ اپنے کانوں سے دیکھتی ہیں۔ یعنی زمینی حقیقت کو سمجھے بغیر، وہ سنی سنائی باتوں پر بھروسہ کرتی ہیں اور اسی پر بیان دیتی ہیں۔ یہ بدقسمتی کی بات ہے۔ اس خط میں یونیورسٹی انتظامیہ نے مویشیوں کی اسمگلنگ معاملے میں گرفتار بیربھوم ضلع ترنمول کے صدر انورت منڈل کا بھی ذکر کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ سے درخواست ہے کہ وہ کان سے دیکھنے کے بجائے عقلمندی سے سوچیں۔ آج آپ کے وزیر اور بڑے لیڈر جیل کے اندر ہیں۔ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے کہ آپ اپنی آنکھوں سے نہیں، اپنے کانوں سے دیکھتی ہیں اور ایسے فیصلے کر کے اپنے آپ کو برباد کر رہی ہیں۔ آپ کا عزیز شاگرد، جس کے بغیر آپ بیربھوم ضلع کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھیں، آج جیل میں ہے۔ اگر آپ محتاط رہتیں تو آپ بدنامی سے بچ سکتی تھیں لیکن آج بھی آپ کانوں سے دیکھ رہی ہیں جو آپ کو مستقبل میں مزید مشکلات میں ڈالے گا۔
ممتا نے وزیر اعظم کو خط لکھنے کا جو تذکرہ کیا ہے ،ا س پر سخت تبصرہ کرتے ہوئے وائس چانسلر نے کہا ہے کہ وشو بھارتی یونیورسٹی ریاست کی واحد مرکزی یونیورسٹی ہے۔ ہمارے اوپر آپ کا آشیرواد نہیں رہے گا تو بہتر ہے۔ ہم وزیراعظم کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے والے ہیں۔ آپ کو ریاستی یونیورسٹیوں کی حالت کی فکر کرنی چاہیے۔ان کی حالت کیا ہے، آپکو علم ہے نہ؟قابل ذکر ہے کہ یونیورسٹی کی صورتحال کو لے کر ریاستی حکومت کے ساتھ مسلسل تنازعہ جاری ہے۔ نوبل انعام یافتہ امرتیہ سین پر یونیورسٹی کی 1.38 ایکڑ زمین ہتھیانے کا الزام ہے لیکن ریاستی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ زمین سین کی ہے۔