ٹی ٹی پی جنگجوئوں کو افغانستان کے دوسرے صوبوں میں بسانے کی طالبان کی پیشکش

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 25th Feb

کابل ،25فروری : طالبان حکومت نے پاکستان کو کہا ہے کہ وہ کلعدم تحریک طالبان پاکستان کے جنگجوئوں کو سرحدی علاقوں سے دوسری جگہ منتقل کرنے کو تیار ہے اگر انہیں اس کے لئے مالی معاونت فراہم کی جا ئے گی ۔ تحریک طالبان زیادہ تر پاکستان اور افغانستان کے سرحدی صوبوں میں مقیم ہیں۔ اور اکثر پاکستان میں گھس کر سیکورٹی اہلکاروں اورمختلف فرقوں کے لوگوںکو نشانہ بناتے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق 8ہزار سے لیکر 12ہزارتک تحریک طالبان کے جنگجو افغانستان میں مقیم ہیں۔ حال ہی میں پاکستان کی وزیردفاع خواجہ آصف کی قیادت میں ایک وفد یہاں آیا اور طالبان کی اعلی قیادت سے ملاقات کی جہاں انہیںثبوت پیش کئے گئے کہ تحریک طالبان کے دہشت گرد افغانستان سے حملہ کرتے ہیں۔ اس دہشت گرد تنظیم کے زیادہ بندوق بردار افغانستان کے ننگرہار ،نورستان ،پختیا ،کوسٹ اور ہیلمند صوبوں میں مقیم ہیں۔ وزیردفاع کے دورے کے بعد شہباز شریف نے ایک اعلی سطحی میٹنگ بلائی جس میں مختلف صوبوں میں وزرائے اعلی کے علاوہ فوجی سربراہ عاصم منیر اور آئی آیس آئی کے ڈاریکٹر جنرل ندیم انجم نے بھی شرکت کی ۔ خواجہ آصف نے میٹنگ میں یہ کہا کہ طالبان حکومت نے انہیں یہ یقین دہانی کی کہ وہ تحریک طالبان کے جنگجوئو ںکو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرے گی او رانہیں افغانستان کے دوسرے صوبو ں میں منتقل کرے گی لیکن اس کے لئے انہیں بھاری فنڈس کی ضرورت ہے ۔ طالبان نے یہ تجویز چائینا کوبھی دی اور کہا کہ وہ ایسٹ ترکستان دہشت گردوںکو بھی دوسر ے صوبوں میں بسائے گی ۔طالبان کے سربراہ ملا عبدالغنی برادرکے علاوہ وزیرداخلہ ،وزیرخارجہ اور وزیردفاع نے پاکستانی وفدسے ملاقات کی ۔ یہ پہلی بار ہوا کہ طالبان نے ٹی ٹی پی کے کیڈر سے ہتھیار چھیننے کی تجویز دی ۔ میٹنگ میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ دہشت گرد ی کے خلاف لڑنے کی ضرورت ہے اور ملک میں سیاسی استحقاقت میں بھی زور دیا ۔ پاکستان اس وقت اندورانی انتشار سے دوچار ہے ۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ ہم سب اکٹھے ہو کر ملک کو اس کٹھن مشکل سے نکال سکیں۔ اس میٹنگ میں تحریک طالبان کی طرف سے پولیس لائن مسجد اور کراچی پولیس چیف دفتر پر حملے تبادلے خیال کیا گیا ۔