Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 22nd Feb
اسلام آباد ،22فروری:پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی جیل بھرو تحریک کا آغاز بدھ سے ہو رہا ہے اور پہلے مرحلے میں 200 کارکن پولیس کو گرفتاری دیں گے۔تحریکِ انصاف نے اعلان کیا ہے کہ جیل بھرو تحریک کا آغاز لاہور سے ہو گا جس کی قیادت پارٹی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کریں گے اور وہ سب سے پہلے گرفتاری دینے والے رہنما ہوں گے۔مقامی میڈیا کے مطابق لاہور کی جیلوں میں گنجائش نہ ہونے کے سبب گرفتار افراد کو میانوالی، ڈیرہ غازی خان سمیت صوبے کی دیگر جیلوں میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔رپورٹس کے مطابق حکام کو احکامات جاری کیے گئے ہیں کہ گرفتاری دینے والے افراد کا ریکارڈ بھی چیک کیا جائے، اگر کوئی شخص کسی مقدمے یا بد عنوانی میں ملوث ہو تو اس کے خلاف گرفتاری کے فوری بعد کارروائی شروع کی جائے۔دوسری جانب شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ بدھ کو ان کے ہمراہ تین دیگر رہنما بھی گرفتاری دیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ صدر عارف علوی نے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں نو اپریل کو الیکشن کرانے کا اعلان کیا ہے اگر ان کے اس اعلان پر عمل درآمد ہو جاتا ہے تو پی ٹی آئی کو جیل بھرو تحریک کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔پی ٹی آئی کے چیئرمین اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے تین ہفتے قبل جیل بھرو تحریک کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ موجودہ حکومت الیکشن کی تاریخ دینے سے گریزاں ہے اور نگران حکومتیں بھی جانب داری کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ان کے بقول، حکومتی سیاسی جماعتیں پی ٹی آئی کے ورکروں کو گرفتار کر کے تحریکِ انصاف کو کمزور کر نے کے بعد الیکشن میں جانا چاہتی ہیں لیکن پی ٹی آئی کے کارکن خود گرفتاریاں دینے کے لیے باہر نکلیں گے۔پی ٹی آئی نے تین روز قبل جیل بھرو تحریک کے شیڈول کا اعلان کیا تھا جس کے تحت پہلے دن لاہور میں کارکن گرفتاریاں دیں گے۔ اس کے بعد پشاور، راولپنڈی، ملتان، گوجرانوالہ، سرگودھا، ساہیوال اور فیصل آباد میں ایک ایک دن گرفتاریاں دی جائیں گی۔بعض ماہرین کے مطابق ‘جیل بھرو تحریک’ پارٹی چئیرمین عمران خان کی جیب میں موجود آخری ترپ کا پتہ ہے۔پاکستان کی تاریخ میں ‘جیل بھرو تحریک’ چلانے کا ذکر کبھی 1977 میں پاکستان نیشنل الائنس کے نام سے نظر آتا ہے، کبھی بے نظیر دور حکومت میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے تو کبھی شوکت عزیز حکومت میں متحدہ مجلس عمل کی جانب سے۔سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی طرف سے ایمرجنسی نافذ کرنے کے اعلان کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتیں بھی اسی قسم کی تحریک چلا چکی ہیں۔سب سے قابل ذکر کوشش 1981 میں اور پھر 1986 میں جنرل ضیاء کے خلاف سیاسی جماعتوں کے اتحاد تحریک بحالی جمہوریت ‘موومنٹ فار ریسٹوریشن آف ڈیموکریسی’ کی جانب سے کی گئی تھی جب بڑی تعداد میں کارکنوں اور رہنماؤں نیگرفتاریاں پیش کی تھیں۔ لیکن مارشل لا ایڈمنسٹریٹر اور پھر صدر کے عہدے پر فائز ہونے والے ضیاء الحق دونوں بار اس سے آہنی ہاتھوں سے نمٹے۔

