ڈپریشن سے کامیابی کی طرف: علامہ پیر ثاقب شامی

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 2nd Feb

 علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے کینیڈی اوڈیٹوریم میں ایم ایس او کے زیر اہتمام پروگرام کا انعقاد

( علی گڑھ، 02 فروری/ضیاء الرحمن امجدی) مسلم اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آف انڈیا (ایم ایس او) اے ایم یو یونٹ کے زیر اہتمام علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے کینیڈی اوڈیٹوریم میں گزشتہ شب ایک دینی و روحانی پروگرام کا انعقاد کیا گیا، جس کی شروعات قاری کیف رضا صاحب کی تلاوت قرآن سے ہوئی۔ اس پروگرام میں انگلینڈ (یو کے) سے تشریف لائے کنزالہدی انٹرنیشنل کے بانی و مہتم، عالمی شہرت یافتہ مفکر و مبلغ اسلام حضرت علامہ پیر محمد ثاقب اقبال شامی کا پر مغز خطاب ہوا جس میں انہوں نے اپنے دیے گئے عنوان “ڈپریشن سے کامیابی کی طرف” پر مدلل و مفصل گفتگو کی۔ دوران گفتگو انہوں نے ڈپریشن کے وجوہات کو گناتے ہوئے کہا کہ اس کا سب سے بڑا سبب نا امیدی، خدا کی نا شکری ، تنہائی اور لوگوں سے کنارہ کشی، رات میں دیر سے سونا وغیرہ ہیں۔ پھر آپ نے ڈپریشن سے دوری اور کامیاب زندگی گزارنے کے کچھ نکات بیان کیے، جس میں انہوں کہا کہ انسان کو ہمیشہ یہ عقیدہ رکھنا چاہیے کہ خدا ہمیں دیکھ رہا ہے اور وہ ہر ایک کا مددگار ہے، رات میں جلدی سونا اور صبح جلدی اٹھنا، فجر کی نماز کے بعد کم از کم گیارہ بار سورہ والضحیٰ کی تلاوت اور اللہ اکبر کا ورد، گناہوں سے دوری کی کوشش کرنا، لوگوں سے ملتے جلتے رہنا اور کم از کم ایک ایسا دوست بنانا جس سے کھل کر بات کر سکیں، دوسروں کی مدد کرنا اور اپنی خوشی میں دوسروں کو بھی شامل کرنا وغیرہ نکات کو تفصیل سے بیان کیا اور ہر نکتے کو دلیلوں اور مثالوں سے سمجھایا خطاب کے اخیر میں انہوں نے کوپیس کاؤنسیلنگ تھریپی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ڈپریشن کے لئے یہ بھی مفید ہے۔ بتا دیں کہ موصوف موجودہ دور کے عظیم محقق و مفکر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین ماہر نفسیات بھی ہیں۔
پروگرام کے صدر پروفیسر سید سراج اجملی صاحب نے مقرر خصوصی کو اے ایم یو کا یادگاری نشان پیش کرکے شکریہ ادا کیا اور ایم ایس او کے صدر مولانا مطیع الرحمن و جنرل سیکرٹری محمد یوسف صاحبان نے دیگر مہمانان خصوصی کو مومینٹو پیش کیے۔ جناب اویس رضا نے حمدیہ کلام پیش کیا، مولانا محمد احسان الحق جامعی نے نعت نبی پیش کیے۔
 پروگرام کا اختتام سلام و دعا پر ہوا۔ اس موقعے پر پروفیسران، اساتذہ کرام، طلبہ، غیر تدریسی عملہ کے علاوہ عوام کا کینیڈی ہال کے اندر اور باہر لگے ہوئے ایل ای ڈی سکرین کے سامنے ایک جم غفیر موجود تھا۔ پروگرام سے متعلق پروفیسران، طلبہ و دیگر حضرات کی طرف سے نہایت ہی مثبت آراء سامنے آئے۔ لوگوں نے بتایا کہ کینیڈی کی تاریخ یہ سب سے عمدہ و موثر پروگرام تھا۔